پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے لئے بی آر ٹی منصوبہ گلے کی ہڈی بن گیا ہے،،ناقص مٹیریل ،تعمیر سے قبل تباہی کے آثار نمودار ہو گئے 

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

پشاور(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون بلور نے پشاور بی آرٹی میں ناقص مٹیریل کے استعمال اور تعمیر سے قبل تباہی کے آثار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے لئے بی آر ٹی منصوبہ گلے کی ہڈی بن گیا ہے اور جس بڑے پیمانے پر اس میں کرپشن کی گئی اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،

اپنے ایک بیان میں انہوں نے بی آرٹی کو عوام پر سونامی کا ڈرون حملہ قرار دیا اور کہا کہ منصوبے کی تکمیل کیلئے پانچ بار تاریخیں تبدیل کی گئیں لیکن تاحال اس کی تکمیل کے آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ تکمیل سے قبل منصوبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کا یہ واحد منصوبہ ہے جو دنیا بھر میں میگا کرپشن سکینڈل کے نام سے جانا جاتا ہے،انہوں نے بی آر ٹی کی دیواروں میں پڑنے والی دراڑوں پر انجینئرڈ وضاحت کو مضحکہ خیز قرار دیا جس میں جس میں دراڑوں کا الزام موسمیاتی تبدیلی پر ڈال دیا گیا ۔ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ جلد اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے۔پشاور میں تیزرفتار بس منصوبہ تکمیل سے قبل تیزی سے بیماریاں پھیلانے لگاہے ،منصوبے میں تاخیرکی وجہ سے شہری بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ جو منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہونا چاہیے تھا وہ ایک سال کا عرصے گزرنے کے باوجود اب بھی کھٹائی میں کیوں پڑا ہوا ہے؟ اور ایک اندازے کے مطابق اب تک 117ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، لیکن نہ تونیب کو اس تاخیری منصوبے کے حوالے سے تفتیش کی ضرورت محسوس ہورہی ہے اور نہ ہی مسٹر کلین کی صوبائی ووفاقی حکومتیں اس حوالے سے کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ دکھا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ پشاورہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں بی آر ٹی منصوبہ پرنیب کی جانب سے تحقیقات کے ضمن میں 12افسران نے بیانات قومی احتساب بیورو میں قلمبند کرائے جسے سردخانے میں ڈال دیا گیا،ثمر بلور نے کہا کہ پشاور بی آر ٹی منصوبہ ایک ایسی کمپنی کو سونپا گیا جو دیگر صوبوں میں اسی قسم کے کام کے حوالے بدنیتی کی بنا پر پہلے ہی بلیک لسٹ قرار دی جا چکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…