پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

حویلیاں طیارے حادثے کی وجوہات سامنے آگئیں، اس حادثے میں جنید جمشید سمیت 47 مسافر شہید ہوئے تھے، یہ المناک حادثہ کس کی غفلت سے پیش آیا؟ انتہائی افسوسناک انکشاف

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آئی این پی )حویلیاں کے قریب اے ٹی آر طیارے حادثے کی وجوہات سامنے آگئیں، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے طیارے میں اہم تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کی جبکہ تحقیقاتی رپورٹ میں پی آئی اے کی انجینئرنگ کی غفلت ولاپرواہی ظاہرکی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے حویلیاں طیارے حادثے کے دو سال بعد ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی، سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے طیارے میں اہم تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی کردی۔حویلیاں طیارے حادثے کی

تحقیقات حتمی نتیجے پر پہنچنے کے قریب ہیں ، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ پرواز 7دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئی تھی، پرواز پی کے 661 میں 47 سے زائد مسافر حادثے کا شکار ہوئے تھے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طیارے کے انجن 10 ہزارگھنٹے مکمل ہونے کے باوجود تبدیل نہیں کئے تھے، انجن نمبر 1 اور پاور ٹربائن کی مرمت نہ ہونے سے خرابی پیدا ہوئی تھی، طیارے کی مرمت کا کام 11 نومبر 2016 کو ہونا تھا نہیں کیاگیا۔رپورٹ میں پی آئی اے کی انجینئرنگ کی غفلت ولاپرواہی ظاہرکی گئی جبکہ ایس آئی بی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ضروری اقدامات کرنے کے بھی ہدایت کی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق وائس ریکارڈر میں کپتان نے حویلیاں کے قریب کنٹرول ٹاور کو میڈے میڈے کی کال دی تھی، اس کے بعد کپتان کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیاتھا جبکہ ایس آئی بی نے بلیک بکس اور وائس ریکارڈر سے ملنے والی تمام ریکارڈنگ طیارہ ساز کمپنی اور انجن ساز کمپنی کو روانہ کی تھی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انجن ساز کمپنی کی جانب سے ایس آئی بی کو حتمی رپورٹ پیش کردی ہے، ایس آئی بی اپنی مکمل رپورٹ تیار کرکے وزیر اعظم کو پیش کرے گا۔یاد رہے 7 دسمبر 2016 میں چترال سے اسلام آباد آنے والے طیارے کو حویلیاں کے قریب حادثہ پیش آیا تھا،

جس کے نتیجے میں معروف مبلغ جنید جمشید سمیت 47 مسافر شہید ہوگئے تھے۔طیارے کے بلیک باکس پر کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ دوران پروازاے ٹی آر طیارے کا ایک انجن اچانک بند ہوگیا تھا، انجن بند ہونے کی اطلاع کپتان نے فوری طور پرکنٹرول ٹاور کو دی تھی، کپتان مے ڈے، مے ڈے کی کال کرتا رہا لیکن کچھ ہی دیر بعد طیارہ زمیں بوس ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…