پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

چینی قونصلیٹ حملے میں کونسا ملک ملوث نکلا، 5خطرناک ترین دہشتگرد گرفتار ، اسلحہ کراچی کس طرح منتقل کیا گیا؟ سنسنی خیز انکشافات

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی قونصلیٹ حملے میں ملوث کالعدم بی ایل اے کے 5 دہشتگرد گرفتار، حملے کی پلاننگ کس نے کی، اسلحہ کہاں سے آیا؟ کراچی پولیس چیف اے آئی جی امیر شیخ کے پریس کانفرنس میں سنسنی خیز انکشافات۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کراچی پولیس چیف اے آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ چینی قونصلیٹ حملے میں ملوث کالعدم

بی ایل اے کے 5دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ پریس کانفرنس میں انکشافات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرفتار دہشت گردوں میں عبدالطیف، حسنین، عارف عرف نادر، ہاشم عرف علی اور اسلم مغیری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حملے کا منصوبہ بی ایل اے کمانڈر اور ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو نے افغانستان میں بنایا جس کے لیے اسلحہ ریلوے کے ذریعے لایا گیا اور بلدیہ ٹاؤن میں رہائش پذیر ایک مکینک عارف نے سہولت کاری کرتے ہوئے اس اسلحے کو اپنے گھر میں چھپایا اور وہیں سے ملزمان 23 نومبر 2018 کی صبح چینی قونصلیٹ پہنچے۔ اسلم عرف اچھونے منصوبے کے لیے قریبی رشتے داروں کا انتخاب کیا، عارف میکنک اسلم اچھو کا کزن ہے جب کہ بشیر زیب اور دیگر دہشت گرد بھی آپس میں رشتے دار ہیں۔کراچی پولیس چیف کے مطابق ہم نے مختلف مقامات سے لوگوں کو پکڑا تاہم اب تک کسی سہولت کار کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق سامنے نہیں آیا، تمام سہولت کار بلوچ لبریشن آرمی اور بھارتی حمایت یافتہ تھے۔کراچی پولیس چیف نے کہا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے لیے ملزمان کو بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ‘را کی حمایت حاصل تھی۔کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو کے افغانستان میں مرنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی لاش نہیں ملی ہے اور اسلم اچھو کے بعد افغانستان میں بشیر زیب بی ایل اے کی

کمانڈ سنبھال رہا ہے۔انہوں نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ سہولت کار حملے سے قبل اگست سے نومبر کے دوران کراچی آتے جاتے رہے اور مختلف جگہوں پر رہے، یہ دہشت گرد جعلی شناختی کارڈ پر آتے تھے اور انہوں نے اپنے مختلف نام رکھ کر شناختی کارڈ بنا رکھے تھے۔ ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق ریکی کے دوران دہشت گرد مختلف گاڑیاں استعمال کرتے رہے، تاہم حملے والے دن جو گاڑی

انہوں نے استعمال کی، اس کا مالک اسے فروخت کرچکا تھا جبکہ بعدازاں یہ گاڑی او ایل ایکس پر بکتی رہی۔کراچی پولیس چیف کے مطابق سی پیک منصوبے میں دراڑیں ڈالنے کے لیے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا اور دہشت گرد پاک-چین دوستی اور تعلقات میں دڑاریں ڈالنا چاہتے تھےایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (اے آئی جی) ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ ایک دہشت گرد کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں، تاہم اس کے بارے میں بھی رپورٹس ہیں کہ وہ مارا جاچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…