پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ہیٹر ہے گیس نہیں ،بجلی ہے لیکن وولٹیج کم ! ٹی وی بھی نہیں ملا، جیل میں پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران نوازشریف کے گلے شکوے،دن کیسے گزارتا ہوں؟دل کی تمام باتیں بتا دیں

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نوازشریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ان کی والدہ، مریم نواز اور جنید صفدر سمیت دیگر اہل خانہ نے ملاقات کی ۔نوازشریف سے حمزہ شہباز، مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں نے بھی ملاقات کی ۔اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ،جبکہ کارکنوں نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر پارٹی قیادت کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

مریم نواز اپنے والد کے لئے کھانا بھی گھر سے بنوا کر لائیں، کھانے میں مچھلی، سبزی اور گاجر کا حلوہ شامل تھا۔سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لئے سینیٹر مشاہد اللہ، لیگی ایم این اے راناثنا اللہ سمیت دیگر لیگی رہنما بھی کوٹ لکھپت جیل پہنچے۔ نواز شریف کی لیگی رہنماؤں سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ نواز شریف کا کہنا تھا قانون کے مطابق جو چیزیں ملنی چاہیں وہ نہیں مل رہیں،جیل میں ہیٹر ہے لیکن گیس نہیں ، بجلی ہے مگر وولیٹج کم ہے ، ٹی وی بھی نہیں ملا ہوا۔میں روزانہ صرف ایک ہی اخبار پڑھتا رہتا ہوں ، جیل میں ایسی چیزوں سے گزارا کر کے شکر ہی ادا کر سکتے ہیں۔ باتیں کرنے والے بتائیں کہاں ہیں این آر او، اپنے دور میں جو ترقیاتی کام کئے اب وہ ختم کئے جار ہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد اللہ کا کہنا تھا حکومتی وزرا کرپٹ ترین ہیں، عمران خان صرف اپوزیشن کا احتساب کر رہے ہیں، فارورڈ بلاک وہی بناتا ہے جو پارٹی میں ہوتا ہے۔راناثنا اللہ نے کہا نواز شریف انتقامی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں، انتقامی عمل کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے، ملک میں دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ملک میں کاروبار بالکل منجمد ہوکر رہ گیا ہے، حکومتی وزرا بد زبانی کے سوا کچھ نہیں کر رہے، حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہے نہ وژن، حکومت پارلیمانی کمیٹی سے اب راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔

اس سے قبل ملاقات کے لیے جیل کے باہر لیگی رہنما مشاہد اللہ خان، خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، ملک ندیم کامران، منشا اللہ بٹ، عثمان ابراہیم، ماجد ظہور اور دیگر موجود تھے۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں احتساب عدالت نے 24 دسمبر کو انہیں سنائی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…