پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے قرضے واپسی کیلئے آٹھ ہفتوں کی آخری مہلت دے دی،222میں سے صرف کتنے افراد نے پیسے جمع کروائے؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 8  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 54 ارب روپے قرض کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت کے دور ان قرضے واپسی کیلئے آٹھ ہفتوں کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی قرض واپسی نہیں کرتا تو پھر معاملہ خصوصی بینچ میں چلایا جائیگا ٗخصوصی بینچ ان کمپنیوں اور افراد کے انفرادی کیسز کو دیکھ کر فیصلہ کریگا ٗجمع کروائی گئی رقم پر بینک اور نہ ہی فنانشل اداروں کا کوئی کلیم ہے،

کسی کا کلیم نہ ہونے کی وجہ سے قرضوں سے واپس کی گئی رقم دیامر بھاشا ڈیم فنڈ میں جمع ہوگی۔ منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الااحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 54 ارب روپے قرض کی معافی سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان اور دیگر متعلقین پیش ہوئے ۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چھبیس لوگوں نے پہلا آپشن استعمال کیا اس کے بعد 13 مزید لوگوں نے پہلا آپشن استعمال کیا ٗوکیل قرض خواہ نے مؤقف اپنایا کہ ہمیں آخری سماعت کا حکم نامہ نہیں ملا اس پر نظر ثانی چاہتے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ وجوہات کی بنا پر وہ فیصلہ نہیں لکھا گیا ٗ اسی لیے کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا، دو سو بائیس میں سے صرف 39 افراد نے پیسے جمع کروائے یہ تو بہت کم ہے، ہم نے سود اور باقی رقم معاف کردی تھی، قرض لی گئی رقم کا 75 فیصد ادائیگی کا حکم دیا تھا، جن لوگوں نے یہ آپشن نہیں لیا وہ پچھتائیں گے اس کے بعد عدالت نے قرضے واپسی کے لیے آٹھ ہفتوں کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی قرض واپسی نہیں کرتا تو پھر معاملہ خصوصی بینچ میں چلایا جائے گا،خصوصی بینچ ان کمپنیوں اور افراد کے انفرادی کیسز کو دیکھ کر فیصلہ کرے گا، عدالت نے حکم دیا کہ جمع کروائی گئی رقم پر بینک اور نہ ہی فنانشل اداروں کا کوئی کلیم ہے، کسی کا کلیم نہ ہونے کی وجہ سے قرضوں سے واپس کی گئی رقم دیامر بھاشا ڈیم فنڈ میں جمع ہوگی اس کے بعد عدالت نے کیس کی مذید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…