پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

‘‘ 4ماہ سے حکومت قائم لیکن ایک بل بھی منظور نہیں کر سکے‘‘ چیف جسٹس نے کھری کھری سنا دیں

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آ با د (آ ئی این پی)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ 4ماہ سے حکومت قائم ہے، ایک بل منظور نہیں کر سکے،ہائی کورٹ کا کام رکا ہوا ہے، مجھے درست طریقے سے پتہ چلنا چاہیے کہ کیا قانون سازی ہوئی ؟ماتحت عدلیہ کے ججز کی روٹیشن پالیسی پر حکومت کا موقف کیا ہے؟ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل پتہ کرکے بتائیں کہ کیا قانون سازی ہونی ہے۔

ہائی کورٹ کا کام رکا ہوا ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل پتہ کرکے بتائیں کہ کیا قانون سازی ہونی ہے، ہائی کورٹ کا کام رکا ہوا ہے، مجھے درست طریقے سے پتہ چلنا چاہیے کہ کیا قانون سازی ہوئی ؟ماتحت عدلیہ کے ججز کی روٹیشن پالیسی پر حکومت کا موقف کیا ہے؟ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ نے سفارشات منظور کر لی ہیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نایاب گردیزی کا کہنا تھا کہ روٹیشن پالیسی کے لیے ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے، پالیسی کی منظوری کے لیے ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان سے بھی بات کی جائے گی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بظاہر لگ رہا ہے کہ معاملے پر پیش رفت ہو رہی ہے،حکومت کہہ رہی ہے کہ سقم کو دور کرنے کے لیے ترمیم کی ضرورت ہے، عدالت ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا نہیں کہہ سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جو مسودہ تیار کر لیا ہے وہ پارلیمنٹ میں پیش کرے، بار کی اہمیت اور محبت اپنی جگہ، عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صوبے اگر اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے لیے ججز نہ دیں تو کیا ہو گا؟چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے لیے ججز صوبوں سے آئیں گے، صوبے اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ کے لیے ججز نہ دیں تو کیا ہو گا؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے، میرے بعد بھی یہ ادارہ رہنا ہے۔

ایسی بات نہیں کہ میرے بعد کچھ نہیں ہو گا۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ہر میٹنگ میں اسلام آباد بار کو شامل رکھا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تمام چیف جسٹس کو بلا لیتا ہوں کہ اسلام آباد اور صوبوں کے ججز ایک دوسرے کی جگہ کام کرسکیں، صوبوں کے جج اسلام آباد میں کام کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ ایف ایٹ کچہری کی پارکنگ کا معاملہ ہائی کورٹ کو بھیج دیتے ہیں، ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے کچہری میں سرکاری و نجی اراضی پر قبضہ کیا ہے۔عدالت نے ڈسٹرکٹ کچہری کے ججز کی ہڑتال سے متعلق بار کی استدعا مسترد کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…