اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

نامعلوم ملزمان نے گھر میں داخل ہوکر معذور شخص کو بیوی اور کمسن بیٹے سمیت آہنی راڈوں کے وار کرکے بے دردی سے قتل کردیا،بچ جانے والی4سالہ بچی نے باپ کو قاتل قراردیا ، پولیس چکراکر رہ گئی

datetime 1  جنوری‬‮  2019 |

رحیم یارخان(آئی این پی)رحیم یارخان، رات کے اندھیرے میں نامعلوم ملزمان نے گھر میں داخل ہوکر معذور شخص کو بیوی اور کمسن بیٹے سمیت آہنی راڈوں کے وار کرکے بے دردی سے قتل کردیا،3 بچیاں زندہ بچ گئیں ،ملزمان نعشوں پر رضائیاں ڈال کر گھر کے مین گیٹ کو تالا لگا کر فرار ،کمسن بچیوں کے واویلہ کرنے پر اہل علاقہ نے پولیس کو اطلاع دی ،مقتول ایک ماہ قبل ہی لیاقت پور سے اہلخانہ کے ہمراہ موضع ٹبی وگھاور منتقل ہو ا تھا ،بچ جانے والی4سالہ بچی نے باپ کو قاتل قراردیا ،

پولیس چکراکر رہ گئی خون کی ہولی دیکھ کر بچی نے بدحواسی میں باپ کو قاتل قرار دیامقتول کے بھائی سے پولیس کا یزمان میں رابطہ پوسٹ مارٹم کے بعد نعشیں اور کمسن بچیاں مقتول کے بھائی کے حوالے کی جائیں گی اے ایس پی کی میڈیا سے گفتگو تفصیل کے مطابق موضع ٹبی وگھاور کے رہائشی مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک ماہ قبل لیاقت پور سے اس موضع میں منتقل ہونے والے محمد عباس کے گھر سے کمسن بچیوں کی چیخ وپکار سنائی دے رہی ہے جبکہ مکان کے مین گیٹ کو باہر سے تالا لگا ہوا ہے جس پر پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی اور گھر میں داخل ہوکر معلوم ہوا کہ محمد عباس اس کی بیوی بشریٰ اور6سالہ بیٹے حسنین کو آہنی راڈوں کے وا رکرکے قتل کرنے کے بعد ان کی نعشوں پر رضائیاں ڈال دی گئی ہیں جبکہ گھر میں ہی موجود 3کمسن بچیوں 4سالہ سحر فاطمہ،2سالہ ایمان فاطمہ اور6ماہ کی نور فاطمہ کو زندہ چھوڑ دیا گیا ہے پولیس نے 4سالہ سحر فاطمہ سے واردات بارے معلوم کرنے کی کوشش کی تو اس نے اپنے باپ غلام عباس کو ہی قاتل قرار دیا جس کے بیان پر پولیس چکراکررہ گئی ذرائع کے مطابق مقتول غلام عباس ایک بازو اور پاؤں سے معذور تھا تاہم وہ کیری وین چلا کر روزگار کا سلسلہ چلائے ہوئے تھا ۔بدحواس ہوجانے والے 4سالہ سحر فاطمہ اور اس کی 2کمسن بہنوں کو فوری طور پر ریسکیو کی مدد سے ہسپتال منتقل کردیا گیا اس سلسلہ میں رابطہ کرنے پر اے ایس پی حفیظ الرحمن بگٹی نے بتایا کہ 4سالہ سحر فاطمہ کی جانب

سے باپ کو قاتل قرار دینا خون کی ہولی دیکھ کر بچی کا خوف ہوسکتا ہے تاہم قتل کی واردات گھر سے نہیں بلکہ باہر سے گھر میں داخل ہونے والے نامعلوم ملزمان کی جانب سے کی گئی ہے جنہوں نے واردات مکمل کرنے کے بعد 3کمسن بچیوں کو زندہ چھوڑ دیا اور گھر کے مین دروازے کو نیا تالا لگا کر موقع سے فرارہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ مقتول محمد عباس کے بھائی سے یزمان میں رابطہ ہوگیا ہے نعشیں اور کمسن بچیاں پوسٹ مارٹم کے بعد مقتول کے بھائی کے سپرد کی جائیں گی تاہم انہوں نے کہا کہ پولیس قتل کی اس لرز خیز واردات کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے جلد حقائق سامنے آجائیں گے اور اس واردات میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…