اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

روس معمر قذافی کے خاندان کو حکومت میں لانے کیلئے سرگرم ،سیف الاسلام سے کیا مطالبہ کردیا؟پوری دنیا ہاتھ ملتی رہ گئی

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

ماسکو (این این آئی)روس کی جانب سے لیبیا کے سیاسی امور میں مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔ روسی حکومت لیبیا کے مختلف دھڑوں میں مصالحت کی آڑ میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔حال ہی میں روسی حکومت کے ایک عہدیدارنے مقتول لیبی لیڈر کرنل معمرالقذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ملک کی سیاست میں سرگرم ہونے پر زور دیا۔عرب ٹی وی کے مطابق روس کی کوشش ہے

کہ وہ لیبیا میں مصالحت کے بعدد آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں قذافی خاندان اور ان کے حامیوں میں میدان میں لانے میں کامیاب ہوجائے۔ روس کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا جب لیبیا میں جامع قومی کانفرنس کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس کانفرنس میں دیگر قوتوں کے ساتھ قذافی خاندان اور ان کے حامی بھی نہ صرف شرکت کریں گے بلکہ اپنی خود کو ایک طاقت ور گروپ کے طورپر ظاہر کریں۔روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ سیف الاسلام القذافی کو ملک کی سیاست میں حصہ لینا چاہیے۔ وہ لیبیا کے جامع سیاسی عمل کا حصہ ہیں۔ روسی حکومت کا کہناہے کہ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل لیبیا میں قومی مصالحت کی کوششوں کے دورام کسی گروپ کو الگ تھلگ کرنے کی پالیسی مناسب نہیں۔روس کی جانب سے قذافی خاندان اور ان کے حامیوں کی لیبیا کی سیاست میں شمولیت کی کوششیں ماسکو کی تزویراتی پالیسی کا حصہ ہے۔ مغربی قوتیں لیبیا میں قومی مصالحت اور امن کی آڑ میں اپنے اپنے حامی گروپوں کی حمایت کرتی چلی آ رہی ہیں۔ روس کا خیال ہے کہ سیف الاسلام قذافی کی شمولیت کے بغیر یمن میں نہ تو امن ہوسکتا ہے، نہ مصالحت اور نہ سیاسی استحکام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔روسی نائب وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ سیف الاسلام اور ان کے حامی قبائل لیبیا کی سیاست کا اہم جزو ہیں۔ انہیں ملک کے جامع سیاسی عمل میں حصہ ضرور لینا چاہیے۔ ان کے ساتھ ساتھ لیبیا کے طبرق، طرابلس اور مصراتہ شہروں میں موجود سیاسی جماعتوں کو بھی مصالحتی اور سیاسی عمل میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔تاہم روسی نائب وزیر خارجہ بوگدا نوف نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ماسکو آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں سیف الاسلام کو صدارتی امیدوار بنانا چاہتا ہے یا روس کا مقصد سیف الاسلام کو صرف تنہائی سے نکال کر سیاست میں سرگرم کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…