پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

105ارب سے بننے والے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی کارگو بلڈنگ کسی بھی وقت زمین بوس ہونے کا خطرہ ،عملے کی منتقلی شروع، افتتاح کے کتنے ماہ بعد عمارت میں دراڑیں پڑیں ؟صورتحال پر انتظامیہ کے اوسان خطا

datetime 15  دسمبر‬‮  2018 |

راولپنڈی(آن لائن)اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کسٹم کارگو بلڈنگ بیٹھنا شروع ہوگئی ہے،ایسے میں حکام نے تمام سٹاف اور ورکرز کو دیگر متبادل جگہوں پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر دیوار پر چھوٹی چھوٹی دراڑیں پڑی ہیں اور ساتھ ہی ایک سینئر افسر کے آفس میں لیکج کا مسئلہ پیدا ہوا،اس طرح دیگر کمروں میں بھی ایسے مسائل سامنے آئے۔

لیکن یہ دراڑیں روز بروز بڑھتی گئیں اور اب عمارت کا ایک حصہ بیٹھنا شروع ہوگیا ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ کسٹم نے یہ معاملہ ائیرپورٹ منیجر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کے نوٹس میں لایا اور ایسے میں انہیں بتایا گیا کہ اب یہ عمارت ان لوگوں کے کام کیلئے محفوظ نہیں ہیں جو وہاں ملازمت کر رہے ہیں۔ایڈیشنل کلکٹر کسٹم نثار احمد نے بتایا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی ائیرفریٹ یونٹ کو دوسری جگہ منتقلی کا عمل شروع کردے گی جو دو کمروں پر مشتمل ہے۔انہوں نے تصدیق کی کہ اس عمارت میں دراڑیں وسیع ہوگئی ہیں اور عمارت ایک طرف کو جھک رہی ہے،جس سے یہاں کام کرنا غیر محفوظ ہوگا۔ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ ائیرفریٹ یونٹ آفس کو یکم مئی کو نئی تعمیر شدہ عمارت منتقل کردیاگیا جبکہ اس کے دو دن بعد نئے ائیرپورٹ کو باضابطہ طور پر کھول دیاگیا۔لیکن یہ دراڑیں تین ماہ بعد دیواروں میں ظاہر ہونا شروع ہوئیں،جب سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خط لکھا گیا تو اتھارٹی نے دراڑیں پر کرنے کیلئے دیواروں کو پلاسٹر کیا لیکن خطرے کی گھنٹی اس وقت بجنا شروع ہوئی جب چند روز قبل عمارت ایک طرف جھکنے لگی۔انہوں نے کہا کہ لوگ کیسے ایسے خطرناک صورتحال میں اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر کام کرسکتے ہیں،بہتر ہے کہ سٹاف کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔کسٹم حکام نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کو بتایا کہ ائیرفریٹ یونٹ کی عمارت انتہائی خطرناک صورتحال میں موجود ہے۔

عمارت میں بڑی دراڑیں سامنے آئی ہیں اور ان کا حجم روز بروز بڑھ رہا ہے۔دریں اثناء سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کسٹم حکام کو بتایا اور اس عمارت میں دراڑوں کی شکایت کی، سینئر ماہرین کراچی سے آن پہنچے اور عمارت کا معائنہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سی اے اے نے کسٹم سٹاف کو متبادل جگہ فراہم کردی ہے جب انہوں نے عمارت میں دراڑوں کی شکایت کی۔انہوں نے کہا کہ نئی تعمیر شدہ عمارت میں دراڑوں کے نمودار ہونے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔واضح رہے کہ سات ماہ ہی گزرے ہیں جب105ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ تعمیر کیا گیا اور اس میں بہت سے حادثات ہوچکے ہیں،جس میں سیلنگ کا گرنا،سیوریج لائنوں کا پھٹنا اور دفاترمیں بدبودار پانی کا جمع ہونا شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…