پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ: چوری کرنے پر انعام کا انوکھا اعلان

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) روزمرہ استعمال کی اشیاء فروخت کرنے والی ایک خاتون نے ملبوسات چوری کرنے والے افراد کو فی گھنٹہ 64 ڈالرمعاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں لباس سمیت ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء فروخت کرنے والی ایک دکان کی مالکن نے ماہر چوروں سے کپڑے چرانے کی درخواست کردی۔ دکان مالکن نے چوروں سے درخواست کی ہے کہ  دکان سے

کپٹرے چوری کریں اور 64 ڈالر معاوضہ بھی کمائیں۔ برطانوی خاتون نےچوروں کو معاوضے کے ساتھ ساتھ چوری شدہ مال میں سے تین لباس بھی اپنے پاس رکھنے کی پیشکش کی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ خاتون نے ساتھ میں شرط عائد کی ہے کہ دکان میں چوری کرنے والے افراد کو لباس چرانے کے بعد طریقہ واردات بتانا ہوگا تاکہ وہ اپنی دکان کو مزید محفوظ بناسکیں اور چوریوں میں کمی ہوسکے۔ مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ دکان مالکن نے اس سلسلے میں باقاعدہ اشہتار بھی شائع کیا کہ جس کے بعد کامیاب چوروں کو ہفتے میں کئی مرتبہ دکان میں چوری کرنی ہوگی اور پھر چوری شدہ مال کی مکمل رپورٹ مالکن کو دینا ہوگی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ میں آئے روز اپنی دکان میں قیمتی لباس کی چوری سے تنگ آچکی ہوں۔ برطانوی شہری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی دکان میں ہونے والی چوریاں روکنے کےلیے یہ قدم اٹھایاہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ چور کو واردات کے بعد طریقہ واردات بتانا ہوگاکہ اس نے کس طرح لباس یا دیگر اشیاء چوری کیں تاکہ میں حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر کرسکوں۔ برطانیہ: ڈچز آف پورٹ لینڈ کا تاریخی تاج شاہی عمارت سے چوری چوریوں سے متاثرہ خاتون نے بتایا کہ کرسمس کی تیاری کے سلسلےمیں نومبرمیں دکان پر گاہکوں کا رش بہت زیادہ ہوجاتا ہے جس کے باعث سب پر نظر رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ خاتون نے بتایا کہ گذشتہ کئی برس سے کرسمس کے موقع پر ہونے والی چوریوں نے مجھے بہت نقصان پہنچایا ہے، اس لیے میں نے ماہر چوروں مدد کی درخواست کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…