جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

وکلا نے تحریک شروع کر دی ، پنجاب کے بڑے شہروں میں عدالتوں کو تالے، دھرنے کا اعلان کر دیا گیا، وجہ کیا بنی؟

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

فیصل آباد/گوجرانوالہ(نیوز ڈیسک ) پنجاب کے مختلف شہروں میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے 25 ویں روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رہا ، وکلا نے 13 دسمبر کو لاہور میں دھرنے کا اعلان کر دیا ، عدالتوں میں آنے والے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا ،وکلا کی جانب سے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کے دوران عدالتوں کے داخلی راستوں کو تالے لگا د یئے،گوجرانوالہ میں وکلا

نے عدالتوں کے علاوہ ڈپٹی کمشنر آفس، تحصیل آفس، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر آفس کی بھی تالہ بندی کر رکھی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد، چنیوٹ، گوجرانوالہ، جھنگ، ساہیوال، سرگودھا سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے وکلا کی ہڑتال بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے عدالتوں میں آنے والے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔وکلا کی جانب سے ہڑتال اور عدالتی بائیکاٹ کے دوران عدالتوں کے داخلی راستوں کو تالے لگا دیے جاتے ہیں اور سائلین کو عدالتوں میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے جب کہ ججز وکلا کی عدم پیشی کے باعث مقدمات کو بغیر سماعت کے اگلی تاریخوں پر منتقل کر رہے ہیں۔مظاہرین وکلا کا کہنا ہے کہ ہم سے متعدد بار ہائی کورٹ بینچ کے قیام کے لیے وعدے کیے گئے ہیں لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے جب کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور نے بھی تین بار ہائی کورٹ بینچ کے قیام کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال بینچ قائم نہیں کیا جا رہا ہے۔گوجرانوالہ بار ایسی ایشن کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ گزشتہ 30 سال سے ہائی کورٹ کے علاقائی بینچ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں لیکن ہم سے صرف وعدے ہی کیے جاتے ہیں۔وکلا کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ بینچ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گوجرانوالہ میں وکلا نے عدالتوں کے علاوہ ڈپٹی کمشنر آفس، تحصیل آفس، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر آفس کی بھی تالہ بندی کر رکھی ہے۔وکلا کی جانب سے ہائی کورٹ بینچ کے قیام تک احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ وکلا کی جانب سے 13 دسمبر کو لاہور میں دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…