پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

دبئی : اردن کے شہری نے 10 لاکھ امریکی ڈالر کی لاٹری جیت لی

datetime 5  دسمبر‬‮  2018 |

دبئی  (مانیٹرنگ ڈیسک) لاٹری ٹکٹ خریدنا ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا لیکن جو اسے ممکن بنالے ، اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں رہتا، اردن کے شہری نے دبئی میں یو ایس ڈالر ملینیئر لاٹری جیت لی۔ تفصیلات کے مطابق ملازمت کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے والے

اردنی شہری نے 19 برس بعد دبئی کے عالمی ہوائی اڈے پر ڈیوٹی فری ملینیئر لاٹری جیت کر 10 لاکھ امریکی ڈالر اپنے نام کرلیے ہیں۔ اماراتی میڈیا کا کہنا ہے کہ 48 سالہ مروان طہٰ جب بھی دبئی کا سفر اختیار کرتا ہے ڈیوٹی فری ریفل لاٹری کا ٹکٹ خریدتا ہے اور سنہ 1999 سے اب تک 300 ٹکٹ خرید چکا ہے۔ مروان طہٰ کا کہنا ہے کہ میں گذشتہ 19 برسوں سے سیکڑوں ٹکٹ خرید چکا ہے اور اس مرتبہ بھی میں نے ڈیوٹی فری لاٹری کے 3 ٹکٹ خریدے تھے، میں شکر گزار ہوں کہ ایک ٹکٹ نے میری قسمت بدل دی۔ اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی فری ملینئم ملینیئر لاٹری کا ٹکٹ خریدنا بھی مروان طہٰ کے سفر کا حصّہ بن چکا ہے، جس طرح کوئی دبئی ڈیوٹی فری سے شاپنگ کرتا ہے اسی طرح مذکورہ شخص ایک ہزار درہم کا لاٹری کا ٹکٹ خریدتا ہے۔ مروان شہری کا کہنا ہے کہ میں ملینئم ملینیئر لاٹری میں شرکت کاموقع کھونا نہیں چاہتا، جب بھی دبئی کا سفر اختیار کروں گا ڈیوٹی فری لاٹری کا ٹکٹ خریدتا رہوں گا۔ ان کا کہنا ہے کہ لاٹری کے ذریعے جیتی گئی دس لاکھ امریکی ڈالر کی رقم کا ایک حصّہ خیراتی ادارے کو چندے میں دے دوں گا جبکہ باقی کی رقم ذاتی سرمایہ داری میں خرچ کروں گا۔ اماراتی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مروان طہٰ نویں اردنی شہری ہیں جنہوں نے سنہ 1999 کے بعد اب تک لاٹری جیتی ہے۔ یاد رہے کہ دبئی ڈیوٹی فری ریفل ٹکٹ کے نام سے جانے والے اس ٹکٹ کی قیمت ایک ہزار درہم ہے جوکہ دبئی میں مقیم کسی بھی پاکستانی کے لیے ایک بڑی رقم ہے۔ مروان طہٰ ایک امید پر 19 برسوں میں اب تک کل 30 ہزار درہم اس لاٹری میں لگاچکے ہیں کہ اگر انعام نکل آیا تو ان کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…