اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

جنوبی پنجاب صوبے کا قیام،بڑا بریک تھرو، پیپلزپارٹی نے عمران خان کی حمایت کا اعلان کردیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمرزمان کائرہ نے کہا ہے کہ عمران خان جنوبی پنجاب صوبے کا منصوبہ اسمبلی میں تو لائیں ہم ساتھ دیں گے، آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے، انہیں اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کا پتہ نہیں ،پنجاب حکومت مرغیوں کا پیکج بنا کر لوگوں میں تقسیم کررہی ہے،ڈالر جو چھلانگیں ماررہا ہے اس پر حکومت چپ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چودھری منظور احمد سمیت دیگر بھی ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی مرکزی تقریب گڑھی خدابخش میں ہوگی ۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عمران خان کی گفتگو سن کر حیرت ہوئی کہ اتنے دعوے کرنے والی حکومت کے اپنے اندر کیا حالات ہیں اور کتنی مایوسی ہے،اسد عمر کے استعفیٰ کی بات باہر نکل آئی ،شاہ محمود قریشی نے کرتارپور کا بڑا چرچا کیا،خود ہی اسے ضائع بھی کیا،وزیراعظم عمران خان کو چیف جسٹس سے گلہ یہ ہے کہ انہوں نے علیمہ خان کو کیوں بلایا،چیف جسٹس نے عمران خان کے یاروں عثمان بزدار اور زلفی بخاری کو بھی بلایا جس پر وزیراعظم کو دکھ ہوا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے انٹرویو میں باتیں اچنبے کی بات نہیں ہم بھی چاہتے ہیں باہر سے پیسہ واپس آئے مگر دعویٰجھوٹا نکلا،وزیر اعظم 11 ارب ڈالر عوام کے سامنے لیکر آئیں،نیب سے وزیر اعظم مایوس ہیں،جناب والا اس ادارے کو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری آپ پر ہے آپ اس حوالے سے کوئی اصلاحات تو لے آئیں۔انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے، انہیں اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کا نہیں پتا۔حکومت قانون سازی لیکر تو آئے پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دے گی۔اپوزیشن پر اعتراض ،اسمبلیوں پر اعتراض تو اعتماد کس پر ہے،وزیر اعظم نے کہا فوج انکے ساتھ کھڑی ہے،آئی ایس پی آر کی تردید نہ آنے کی صورت میں کیا ہم یہ سمجھیں کہ یہ بات درست ہے،کیا فوج دوسری جماعتوں کے منشور کیساتھ نہیں کھڑی۔قمرزمان کائرہ نے کہا کہ ہمارے خلاف تو جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے گر ایسا ہے جیسا عمران خان کہہ رہے ہیں تو یہ خطرناک بات ہے،فوج کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی پی او کیس میں وزیر اعلیٰ کا کام تھا

کہ آئی جی سے رپورٹ مانگیمآدھی رات کو ڈی پی او کو طلب کرنے کا کیا کام تھا،اگر کسی شخص کی کرپشن کے ثبوت حکومت کے پاس ہیں تو درج کیوں نہ کروائے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے پر عجیب منطق دی جاتی ہے کہ یہ غلامی کی علامات ہیں،لوگوں کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹانے کیلئے یہ سب کیا جارہا ہے،ڈالر جو چھلانگیں ماررہا ہے اس پر حکومت چپ ہے۔

پنجاب حکومت مرغیوں کا پیکج بنا کر لوگوں میں تقسیم کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وسیلہ روزگار پراجیکٹ بی بی شہید کا تھا جسے چلنے نہیں دیا گیا،سو دن کا ہدف کیا ہم نے کہا تھا کہ آپ جنوبی پنجاب صوبے کا منصوبہ اسمبلی میں تو لائیں ہم ساتھ دیں گے،بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ وہ اس معاملے پر حکومت کا ساتھ دیں گے۔عمران خان صاحب نے اگر مڈٹرم الیکشن کرانے ہیں تو بسم اللہ ابھی تو چار دن ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…