جمعہ‬‮ ، 06 مارچ‬‮ 2026 

بڑا بریک تھرو، امریکی صدر کی جانب سے افغان عمل امن میں پاکستانی معاونت مانگنے کے بعد ایک بار پھر حالات بدل ہوگئے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی )پاک امریکا تعلقات میں افغانستان طویل عرصے سے اہمیت کا حامل رہا ہے، اس کی وجہ سے کبھی دو طرفہ قربتیں بڑھیں تو کبھی دوریاں اور تنا ؤبھی پیدا ہوا۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے افغان عمل امن میں پاکستان کی معاونت مانگنے کے بعد ایک بار پھر پاک امریکا تعلقات بحال ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ 80 کی دہائی میں شروع ہونے والی افغان جنگ نے روس کے خلاف پاک امریکا قربتیں بڑھائیں۔

نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع کی تو پاکستان اس کا فرنٹ لائن اتحادی بنا اور امریکا کو زمینی اور فضائی راستے بھی دیے گئے، نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان خود بھی میدان جنگ بن گیا۔70 ہزار سے زائد شہریوں اور قانون فانذ کرنے و الے اداروں کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوئیں، 100 ارب ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔پاکستان نے خالد شیخ سمیت اہم القاعدہ رہنماں کو گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا مگر مئی 2011 میں ایبٹ آباد اپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد دو طرفہ تعلقات شدید تنا کا شکار ہوتے چلے گئے۔اسی سال نومبر میں افغان سرحد کے قریب سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں 26 پاکستانی فوجیوں کی شہادت سے پاک امریکا تعلقات میں تنا بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان کے لیے نیٹو سپلائی بند کر دی۔جولائی 2012 میں امریکا نے سلالہ واقعہ پر پاکستان سے معذرت کر لی۔افغانستان کے مسئلے کا بات چیت کے ذریعے حل پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے اور اس کے لیے کوششیں بھی کی جاتی رہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر آگے نہ بڑھ سکیں۔جولائی 2015 میں افغان طالبان کو مری میں مذاکرات کی میز پر لایا گیا تو افغان حکومت کی جانب سے طالبان امیر ملا عمر کی ہلاکت کی خبر سامنے آگئی۔ایک بار پھر مذاکرات کی کوششیں شروع ہوئیں تو 21 مئی 2016 کو بلوچستان میں طالبان امیر ملا منصور کی ہلاکت کا واقعہ پیش آگیا۔

امریکا کی افغانستان میں موجودگی کو 17 سال ہو چکے، ہزاروں فوجیوں کی ہلاکتوں اور اربوں ڈالرز کے اخراجات کے باوجود اس وقت بھی امریکی اداروں کی اپنی رپورٹس کے مطابق ملک کا 40 فیصد علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان سے متعلق سخت پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔گزشتہ ماہ بھی امریکی صدر نے پاکستان کے خلاف سخت بیانات داغے جس کا پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا۔ڈو مور کے مطا لبات اور نومور کی دھمکیوں کے بعد اب شاید ٹرمپ انتظامیہ کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ پاکستان سے ہی ہو کر گزرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…