اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی باتیں اور کرتارپور بارڈ کھولنے کا پاکستانی اعلان۔۔کشمیریوں کی مسلح تنظیم حزب المجاہدین نے پاکستانی حکمرانوں کو تنبیہہ کرتے ہوئے کیا اعلان کر دیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین نے کہاکہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی تحریک اپنے عروج پر ہے ۔8لاکھ بھارتی فوج کے سامنے نہتے کشمیری عوام ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ہرروز ایک کربلا برپا ہوتی ہے۔عالمی برادری کی بے رخی، بے حسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو حکمرانوںکی طرف سے زبانی کلامی صورتحال کاسامناہے۔محض اللہ کی مدد کے سہارے

کشمیری عوام برسر پیکر ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوںنے یہاں ہنگامی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران ڈالروں کے حصول کے لیے سارا کھیل کھیل رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کا سارا ملک ہڑپ کرچکاہے ۔یہودی بستیاں آباد کی جارہی ہے عالم اسلام کے بزدل حکمران ذاتی مفاد میں چپ سا دھے ہوئے ہیں۔ہمیں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرناچاہیے۔کرتارپور سرحد کھولنے کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ دونوںممالک کے حکمرانو ں نے ایک کمیونٹی کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ راستہ کھول کر اس کمیونٹی کے انتقام اور غصہ کو ٹھنڈا کیاہے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر عذیر لطیف، ضلعی قیم محمدمعاویہ اورخانیوال کے امیر سہیل ثاقب ،فہیم احمد ودیگر بھی موجودتھے۔پیر صلاح الدین کا کہنا تھا کہ کشمیرکے عوام اپنے شہداء کی میتیں اور تابوت پاکستانی پرچم میںلپیٹ کر پاکستان زندہ باد کی صدائوں میں دفناتے ہیں۔پاکستان کے حکمرانوںنے اپنا طرز عمل تبدیل نہ کیاتو منفی ردعمل کا خدشہ ہے۔انہوںنے کہاکہ صدر مشرف کے دور میں کشمیر کے نہتے عوام کی سپورٹ بند کرنے کیلے کھار دارباڑ لگاکر راستے بند کر دئیے گئے ۔انہوںنے کہاکہ آزادی کشمیر کی جنگ تو 27اکتوبر 1947میں بھارتی قبضہ جمانے سے شروع ہوئی ۔بھارتی قبضہ کیخلاف کشمیری عوام روز اول سے برسر پیکر ہے۔

جموں کشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر بھی آزاد ہوجاناتھا لیکن بھارت چلاکی سے اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا ۔70سال کی طویل جدوجہد میں سوا پانچ لاکھ لوگ شہید ہوچکے ہیں اڑھائی لاکھ لوگ بھارتی قبضہ کے ابتدائی بیس دنوںمیں ہی شہید کردئیے گئے ۔انہوںنے کہاکہ47ء سے 90تک جدوجہد پرامن تھی ۔جہاد افغانستان کو دیکھتے ہوئے کشمیری عوام نے بھی ہتھیار اٹھا یا اور بڑی تعداد میں نوجوان ،مجاہدین میدان میں ہیں۔29 سالہ مسلح جدوجہد میں سوا لاکھ مزید جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔سولہ ہزا ر علماء ،دانشور، ادیب اور پڑھے لکھے لوگ غائب ہیں۔جبکہ چھ ہزار گم نام قبریں ہیں۔مائیں ،بہنیں،بیٹیاں ،بچے ،بوڑھے آزادی کی جدو جہد میں شریک ہیں۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…