ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے طاہر داوڑ کی میت وصول کرنے پر فاتحانہ انداز اپنا کر غلط پیغام دیا،اے این پی نے کھری کھری سنادیں،بڑا مطالبہ

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

پشاور (آئی این پی ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ حکومت نے طاہر داوڑ کی میت وصول کرنے پر فاتحانہ انداز اپنا کر غلط پیغام دیا ، جو اسلام آباد میں اس کی حفاظت نہیں کر سکے وہ لاشوں پر سیاست سے گریز کریں ، ان خیالات کااظہار انہوں نے حیات آباد میں شہید ایس پی طاہر داوڑ کی رہائش گاہ پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،

میاں افتخار حسین نے کہا کہ انتہائی حساس اور اہم ایشو پر وفاقی وزراء کے بیانات مایوس کن ہیں ،عمران خان کے ایڈوائزر افتخار درانی اور وزیر داخلہ نے غلط بیانی سے کام لیا جس کی وجہ سے ہم ایک بہادر سپوت سے محروم ہو گئے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ طاہر داوڑ کے معاملے پر من گحڑت کہانیوں کا سہارا لیا گیا اور حکومت نے قوم کو دھوکے میں رکھا ، طاہر داوڑ کی شہادت حکومت اور ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ شہید ایس پی دہشت گردوں کے خلاد سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھا اور اس کی شہادت اور ان خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسلام آباد سے ایک افسر کا غواء اور افغانستان منتقلی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ،پاکستان اور افغانستان کے حالات پہلے ہی کٹھن دور سے گزر رہے ہیں جبکہ اس قسم کے واقعات سے حالات مزید خراب ہونے کا ندیشہ ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کر کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہید ایس پی کے بیٹے کے مطالبات تسلیم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،مرکزی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ آج اسلام آباد سے سی ڈی اے کے ایک اور افسر ایاز محسود کو اغوا کر لیا گیا ہے جو انتہائی قابل تشویش ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور ایاز محسود کی شہادت کا انتظار کرنے کی بجائے ان کی بازیابی کیلیء فوری اقدامات کرے، انہوں نے کہا کہ حکمران پختونوں کی لاشوں پر سیاست سے گریز کرے اور ہمیں اس نہج پر نہ لائے کہ کل کو اس کیلئے حالات کو قابو کرنا مشکل ہو اجائے۔میاں افتخار حسین نے تمام پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ ایس پی شہید کے اغوا اور قتل کے خلاف ہونے والے کل کے مظاہروں میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…