بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی ایک سال میں کتنے گدھے کھاگئے , جاویدچوہدری کے تہلکہ انگیزانکشافات

datetime 8  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)آپ اگر کسی قصاب کی دکان سے قیمہ خرید رہے ہیں یا آپ نے کسی ریستوران میں کڑاہی گوشت کا آرڈر دے دیایا آپ باربی کیو سے لطف اندوز ہورہے ہیں یا پھر آپ چپلی کباب کو للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں تو آپ فوراً اپنا ارادہ بدل لیں‘ آپ قیمہ خریدنے کے فیصلے سے بھی منحرف ہو جائیں اور اگر ممکن ہو تو آپ چند ماہ کےلئے گوشت کی خریداری سے بھی تائب ہوجائیں‘ آپ کی صحت اور ایمان دونوں کےلئے بہتر ہو گا‘ یہ فیصلہ صرف آپ اور مجھے نہیں کرنا چاہیے بلکہ ملک کے تمام پارلیمنٹیرینز‘ تمام بیورو کریٹس‘ تمام فوجی افسروں‘ تمام وزرائ‘ تمام وزراءاعلیٰ‘ گورنر صاحبان‘ وزیراعظم اور صدر صاحب کو بھی یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کیونکہ یہ لوگ بھی یقینا ان گوشت فروشوں کا نشانہ ہیں جو اس وقت معمولی سے مالی فائدے کےلئے عوام اور خواص دونوں کو گدھے کا گوشت کھلا رہے ہیں اور ہم عوام سمیت ملک بھر کے خواص 2013ءسے اس حرام خوری کے مرتکب ہیں۔یہ معاملہ کیا ہے؟ ہمیں یہ جاننے کےلئے ذرا سا ماضی میں جانا ہو گا‘ ہمارے ملک میں چمڑا اور چمڑے کی مصنوعات تیسری بڑی ایکسپورٹ ہے‘ پاکستان نے 2014ءمیں 957 ملین ڈالر کی چمڑے کی مصنوعات ایکسپورٹ کیں‘ ملک میں چمڑا صاف کرنے والی آٹھ سو بڑی ٹینریز ہیں جبکہ پانچ لاکھ لوگ اس صنعت سے وابستہ ہیں‘پاکستان میں نیوزی لینڈ کے بعد دنیا کی شاندار ترین کھالیں پیدا ہوتی ہیں‘ پاکستان کی 2010ءتک اس شعبے میں مناپلی تھی لیکن پھر چین اس شعبے میں آگیا‘ اس نے دنیا بھر سے کھالیں جمع کرنا شروع کر دیں‘ چین نے پاکستان کی چمڑے کی صنعت پر بھی دستک دی‘ چینی کارخانہ دار پاکستان سے بھاری مقدار میں کھالیں خریدنے لگے‘ چینی تاجر پاکستان آئے تو انہوں نے دیکھا ملک میں بکرے‘ گائے اور بھینس کا چمڑا مہنگا جبکہ گدھوں اور خچروں کی کھالیں سستی ہیں‘ تحقیق کی‘ پتہ چلا‘ پاکستان مسلمان ملک ہے‘ مسلمان گدھوں اور خچروں کا گوشت نہیں کھاتے‘پاکستان میں جب گدھے اور خچر بیمار ہوتے ہیں تو انہیں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے‘ یہ ویرانوں میں سسک سسک کر مر جاتے ہیں‘ گدھوں کے مرنے کے بعد شہروں کے انتہائی غریب لوگ ان کی کھال اتار لیتے ہیں اور گوشت چیلوں اور مردار خور

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…