جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی بندش کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش،سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈال دیا گیا ،اصل قصور وار کون ہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

تربیلا غازی(آن لائن) تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی بندش کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش بجلی کی بندش کا سارا ملبہ سابق حکومت پر ڈال دیا گیا واپڈا بھی قصوار، بڑے مگر مچھوں کے لئے پھندا تیار۔غیر ذمہ داری و غفلت کا مظاہر ہ کرنے والے افسران کے بوریاں بستر گول کئے جانے کا امکان، منصوبہ سے بجلی کی پیداوار کی بندش سے ملک کو اربوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا

منصوبہ سے بجلی کی پیداوار کی بندش سے ملک کو روزانہ بارہ سے پنددہ کروڑوں روپے کا نقصا ں برداشت کرنا پڑا تھا تفصیلات کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ واپڈا نے 1410 میگاواٹ بجلی کی پیدا وار کے حامل تربیلا ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبہ سے بجلی کی بندش کی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی ہے منصوبہ سے یونٹ نمبر 16اور یونٹ نمبر 17 نے کے ڈرافٹ گیٹ مٹی میں دب گئے تھے جس کی وجہ سے تقر بیا ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک بجلی کی پیدا وار بند رہی تھی جس سے ملک کو تقریب ایک اندازے کے مطابق ایک ارب سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا جس کا وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دیا تھا ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ جو واپڈا کے حکام نے تیار کی ہے جس میں سابق حکو مت کو ذمہ دار قرار دیا ہے جس کی وجہ سے منصوبہ کے یونٹ نمبر سترہ کا فتتاح کیا گیا تو اُس وقت پانی ڈیڈ لیول پر تھا مگر سابقہ حکومت کے دباؤ میں آکر اس کا دس مارچ 2018 کو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے افتتاح کیا تھامگر یونٹ افتتاح کے بعد صرف ایک روز کے لئے آپریشنل کرنے کے بعد بند کر دیا گیا اُس کے بعد یونٹ کو دوبارہ 8 جون کو دوبارہ آپریشنل کیا گیا مگر یونٹ سولہ و سترہ کے ڈرافٹ گیٹ میں مٹی بھر جانے سے بند ہو گئے تھے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افتتاح کے لئے سابق حکومت کادباؤ تھا مگر جون میں جب یونٹ کو دوبارہ پیدا وار کے لئے آپریشنل کیا گیا تو اْس وقت نگران حکومت تھی لہذا سارا ملبہ سابق حکومت کے ساتھ واپڈا بھی بندش کا ذمہ دار ہے جس میں انجینئرز سٹاف بھی شامل ہے اگر ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول پر تھا تو پھر دونوں یونٹوں کو کیوں چلایا گیا تھا۔حالانکہ غیر ملکی تعمیراتی کمپنی نے ایک خط کے ذریعے واپڈا کو یونٹوں کو آپریشنل کرنے کی اجازات نہیں دی تھی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…