جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایس پی طاہر داوڑ کی تدفین،حکومت نے اہم اعلان کردیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

پشاور (این این آئی) وفاقی کابینہ نے پولیس افسرطاہر خان داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ جمعرات کووزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کااجلاس ہوا جس میں پولیس افسرطاہر خان داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی ۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وزیرمملکت داخلہ کو طاہر داوڑ کے قتل کی فوری تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔قبل ازیں افغان حکام نے ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کردیا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے آفسر طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کیلئے افغانستان کے شہر جلال آباد سے طورخم بارڈر لایا گیا جہاں جسد خاکی وصول کرنے کے لیے وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اور صوبائی ترجمان اجمل وزیر موجود تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق ابتدائی طور پر افغان حکام نے ایس پی طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کو دینے سے انکار کردیا تھا تاہم حکومتی وفد کی جانب سے افغان حکام سے مذاکرات کے بعد طاہر خان کی میت طورخم بارڈر پر پاکستان کے حوالے کی گئی جس کے بعد پولیس ٹیم میت کو لے کر لنڈی کوتل روانہ کی گئی دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ شہید طاہر داوڑ کی نماز جنازہ اور تدفین سرکاری اعزاز کے ساتھ کی جائے گی۔ وفاقی کابینہ نے پولیس افسرطاہر خان داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی۔ جمعرات کووزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کااجلاس ہوا جس میں پولیس افسرطاہر خان داوڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…