منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے،وزیردفاع

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

سیالکوٹ(نیوزڈیسک ) وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے، حکومت ہندوستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ پائیدار امن کا خواہاں ہے۔سیالکوٹ کی ورکنگ باونڈری کے ساتھ گاوں کنگرہ پسرور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے واقف ہے، اور ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ملک میں عسکریت پسندی، بغاوت اور دہشت گردی کے خاتمے میں مسلح افواج کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضربِ عضب آپریشن نے اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں اور اس میں کامیاب پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور عسکریت پسندوں سے جنگ میں مسلح افواج کے کندھے سے کندھا ملا کر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف جنگ اور پائیدار عالمی امن کے قیام میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کررہا ہے۔سرحد کے ساتھ ہندوستانی بارڈر سیکیورٹی فورس کی معاندانہ کارروائی کا شکار ہونے والے دیہاتیوں کے ساتھ وفاقی وزیر نے یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سرحدی دیہاتوں کے مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات فراہم کرکے ان کے لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے۔اس سے قبل وفاقی وزیرِ دفاع نے گاوں باجرہ گڑھی میں گورنمنت گرلز ڈگری کالج کا سنگ بنیاد رکھا اور تحصیل پسرور میں سیالکوٹ کنگرہ روڈ کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت ان منصوبوں پر 1.20 ارب روپے خرچ کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ سیالکوٹ لاہور ایکسپریس وے کی تعمیر پر 56 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت خاص طور پر توانائی کے بحران سمیت ان مسائل کے حل کے لیے مصروف عمل ہے، جو اس کو ورثے میں ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران کے حل سے ملک ترقی اور اقتصادی استحکام کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…