جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

جرمن کاریگر کا کمال: لکڑی سے بنا یاماہا موٹر سائیکل

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ایک جرمن بڑھئی نے بارہ سال کا عرصہ صرف کرتے ہوئے اپنی پسندیدہ یاماہا موٹر سائیکل کا اصل سائز میں لکڑی کا ایک ماڈل تیار کر لیا ہے۔ اس ماڈل کی تیاری میں لکڑی کے پانچ ہزار سے زیادہ مختلف ٹکڑے استعمال کیے گئے ہیں۔جہاں اصل موٹر سائیکا کا وزن 160 کلوگرام ہے، وہاں لکڑی سے بنائے گئے اس کے ماڈل کا وزن ایک سو کلوگرام بنتا ہے
جہاں اصل موٹر سائیکا کا وزن 160 کلوگرام ہے، وہاں لکڑی سے بنائے گئے اس کے ماڈل کا وزن ایک سو کلوگرام بنتا ہے
چھیالیس سالہ بڑھئی آندرے شلوسر کا تعلق شمالی جرمن صوبے شلیزوِک ہولشٹائن کے ایک گاو¿ں نیئن بورسٹل سے ہے۔ ا±س نے بتایا کہ ا±س کا منصوبہ ا±س کی بیوی کی جانب سے کہی جانے والی ایک ’نہیں‘ سے شروع ہوا تھا۔ ا±س کی پسندیدہ یاماہا موٹر سائیکل FZR 600R Aral Cup ایک طویل عرصے تک ا±س کے زیرِ استعمال رہی تھی۔ ایک وقت آیا کہ ا±س نے اس موٹر سائیکل پر سوار ہونا چھوڑ دیا۔ تب وہ اس کو ایک یادگار کے طور پر اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں رکھنا چاہتا تھا۔ بیوی کے انکار کے بعد ا±ن دونوں کا سمجھوتہ اس بات پر ہوا کہ اگر یہ موٹر سائیکل مکمل طور پر لکڑی کا بنا ہوا ہو تو وہ اسے ڈرائنگ روم میں رکھنا قبول کر لے گی۔اب جب موٹر سائیکل کا یہ حیران ک±ن ماڈل مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے تو آندرے شلوسر اسے صرف اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنا کر نہیں رکھنا چاہتا۔ ا±س کی خواہش ہے کہ اور لوگ بھی ا±س کے مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کیے گئے اس شاہکار کو دیکھیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اس ماڈل کو کسی عجائب گھر کے حوالے کرنے کے لیے بھی راضی ہے۔اس چوبی ماڈل کی تیاری میں آندرے شلوسر کی چار ہزار گھنٹوں کی مسلسل محنت شامل ہے۔ ا±س نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ کبھی کبھی وہ اپنے گیراج میں اس حالت میں کھڑا ہوتا تھا کہ گرد ا±س کے ٹخنوں تک پہنچ جایا کرتی تھی۔اس چوبی ماڈل کی تیاری میں آندرے شلوسر کی چار ہزار گھنٹوں کی مسلسل محنت شامل ہےاس چوبی ماڈل کی تیاری میں آندرے شلوسر کی چار ہزار گھنٹوں کی مسلسل محنت شامل ہے شلوسر نے بتایا کہ ا±س نے لکڑی کو ایک مخصوص شکل دینے والے آلے کے ساتھ لاتعداد شامیں اپنے گیراج میں گزاریں۔ جب کوئی مخصوص حصہ آخر میں درست شکل میں آنے کی بجائے آڑھا ترچھا ہو جاتا تھا تو وہ ڈرائنگ روم کی چمنی کی نذر ہو جایا کرتا تھا:

0,,18453344_401,00

”کئی کئی حصے ایسے ہیں، جنہیں مَیں نے دو یا تین مرتبہ بنایا۔“سب سے زیادہ محنت ا±سے موٹر سائیکل کا چین بنانے پر صرف کرنا پڑی۔ یہ چین مجموعی طور پر 430 چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے:”مَیں نے تمام پیمائشیں اندازے سے کی ہیں اور سارا کام آنکھ کے پیمانے سے انجام دیا ہے۔“جہاں اصل موٹر سائیکا کا وزن 160 کلوگرام ہے، وہاں لکڑی سے بنائے گئے اس کے ماڈل کا وزن ایک سو کلوگرام بنتا ہے۔ ا±س نے بتایا کہ جیسے جیسے اس ماڈل پر ا±س کا کام آگے بڑھتا گیا، ویسے ویسے مختلفحصوں کی جزیات میں بھی ا±س کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ کئی حصے ایسے بھی ہیں، جو باہر سے نظر نہیں آتے لیکن ا±ن کی تیاری میں بھی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ مثلاً سپارک پلگ باہر سے نظر نہیں آتے لیکن آندرے شلوسر نے یہ پلگ بھی لکڑی سے تیار کیے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…