جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اس کو منرل نہیں بوتل میں بند پانی کہنا چاہیے ، کسی نے منرل واٹر کہا تو ۔۔! چیف جسٹس ثاقب نثار برہم،منرل واٹر کمپنیوں سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ سنادیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے منرل واٹر کمپنیوں سے زیر زمین پانی کی مد میں چارجز وصولی کیس میں کہا ہے کہ یہ معاملہ اب ٹیکس سے بڑھ کر اسکینڈل کی شکل اختیار کر گیا ہے ٗ آپ لوگ چاہے کمپنیاں بند کر دیں لیکن زیر زمین پانی آلودہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ٗ اعتزاز احسن اور دوسرے بڑے وکلاء نے فیسیں لے لی ہیں اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے، کسی نے منرل واٹر کہا تو ناراض ہوجاؤں گا،

اس کو منرل نہیں بوتل میں بند پانی کہنا چاہیے۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے منرل واٹر کمپنیوں سے زیر زمین پانی کی مد میں چارجز وصولی کیس کی سماعت کی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ اربوں روپے کا پانی نکال لیا گیا، اس لوٹ مار کا حساب کون دے گا؟۔واٹر کمپنی کے نمائندے سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اپنی انڈسٹری بند کر دیں، ایک صنعت کے فائدہ کے لئے قوم کا نقصان نہیں کرسکتے، آپ اپنے کاروبار کے لیے خام مال مفت کیوں لے رہے ہیں، آپ کے منافع کے لیے قوم کو پیاسا نہیں مرنے دوں گا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے واٹر کمپنی کے نمائندے کو کہا کہ بوتلوں کے پانی کو بند کر دیں، ہم گھڑے کا پانی پی لیں گے، آپ اس قوم کے مسیحا نہیں، قوم کی فکر چھوڑیں اور اپنے منافع کی فکر کریں، 30 سال سے آپ واٹر کمپنی کے نام سے فیکٹری چلا رہے ہیں اور اس عرصے میں قوم کا کتنا پانی استعمال کر گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ چار دفعہ میں نے آپ کے منرل واٹر میں ملاوٹ پکڑی ہے، آپ کے وکیل میرے پاس سفارشیں لے کر آتے رہے۔ماہر ماحولیات پروفیسر ڈاکٹر احسن صدیقی نے عدالت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کمپنیوں کے پاس پانی کی کوالٹی

چیک کرنے کے آلات ہی نہیں اور انہوں نے کسی ماحولیات کمپنی سے سرٹیفکیٹ بھی نہیں لیا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ مجھے بتائیں بوتلوں والا پانی کیسے تیار کیا جاتا ہے اور بوتل میں بند پانی کی کوالٹی کیا ہے۔جس پر پروفیسر احسن صدیقی نے بتایا کہ انسان پانی کی ایک بوند بھی پیدا نہیں کر سکتا ٗایک کمپنی کا ایک پلانٹ لگ بھگ ایک لاکھ لیٹر ایک گھنٹے میں زمین سے پانی نکال رہا ہے،

کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح 100 فٹ سے 400 فٹ پر چلی گئی ہے۔ڈی جی ماحولیات کے مطابق پانی کی کوئی کمپنی زیر زمین پانی کے استعمال پر ایک روپیہ بھی حکومت کو نہیں دے رہی اور زیر زمین پانی سے صاف پانی حاصل کرنے کے بعد ویسٹ کو پھینک دیا جاتا ہے، ایسا ویسٹ زیر زمین پانی کو مزید آلودہ کر رہا ہے۔

پروفیسر احسن صدیقی نے کہاکہ دریائے سندھ کے پانی سے بیکٹیریا ختم کر دیا جائے تو یہ بوتلوں سے ہزار گنا بہتر پانی ہے۔عدالتی معاون نے اس موقع پر کہا کہ پانی کی بوتل کے بجائے زمین سے نکالے جانے والے فی لیٹر پانی پر ٹیکس عائد کیا جائے اور جب سے کمپنیاں پانی نکال رہی ہیں تب سے ٹیکس وصول کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…