ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف، مریم نوازاور کیپٹن(ر)صفدر کوبڑی خوشخبری سنادی گئی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داما کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اسلام آباد تینوں کی رہائی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نوازشریف، مریم اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں کے خلاف نیب کی اپیل پر سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو جواب جمع کرانے کا کہا تھا جس پر نیب اور خواجہ حارث کی جانب سے جواب جمع کرایا گیا۔چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کا جواب کافی مفصل ہے، مختصر معروضات دیں، پھردیکھیں گے اس معاملے پر لارجر بینچ بنانا ہے کہ نہیں، یہ اصول دیکھنا ہے کہ اپیلوں کی سماعت سے پہلے سزا معطلی سے کیس کامیرٹ متاثر تو نہیں ہوا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ کی ضمانت والا فیصلہ قائم رکھتے ہیں۔دوران سماعت خواجہ حارث نے اسفند یار ولی کیس کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سزا معطلی کا معاملہ دیکھنا ہے، میرٹ آف دی کیس تو متاثر نہیں ہوا۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ سزائے موت کے مقدمات میں بھی سزا معطل ہوسکتی ہے، سزا معطلی پرسپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ حارث سے دلچسپ مکالمہ کیا کہ میرے ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ خواجہ حارث جب آپ کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو آپ کی دل کی دھڑکن بڑھ بڑھ جاتی ہے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے۔چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ اپنے نکات لکھ کردیں، آپ کو گزشتہ سماعت پر بھی کہا تھا اپنے پوائنٹس تحریری طور پر دیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ میرے ذہن میں 3 بنیادی سوال ہیں، دہشت گردی کا مقدمہ کریمنل کیس ہوتا ہے،

موجودہ کیس نیب قانون کا تھا، اصل سوال ضمانت نہیں سزا معطلی کا ہے، کیا سزا معطلی میں شواہد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے؟ دیکھیں گے کیا ہائی کورٹ نے شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ پراعتماد کرنا ہوگا، ہمیں بداعتمادی کی بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا، اگر فوجداری مقدمات کے ماہرججز کو شامل کریں توآپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے، آصف سعید کھوسہ کا فوجداری مقدمات کا بڑا تجربہ ہے۔جس پرخواجہ حارث نے کہا کہ وہ صرف جسٹس آصف سعید کے فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے نیب اور خواجہ حارث کے جواب کے بعد نوازشریف، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقراررکھا اور نیب کی اپیل قابلِ سماعت قرار دے دی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نیب کی درخواست منظور کر رہے ہیں، مناسب ہوا تو لارجر بینچ تشکیل دیں گے جس میں فوجداری قانون کے بڑے جج صاحبان کو شامل ہونا چاہیے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے،

جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 11، مریم کو 8 اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔تینوں ملزمان اڈیالہ جیل میں قید رہے جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 ستمبر کو احتساب عدالت کی جانب سے تینوں افراد کو دی گئی سزا معطل کی تھی جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…