جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ایون فیلڈ ریفرنس میں مجھے سزا ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ۔۔۔ مریم نواز کا طویل عرصے کی خاموشی کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا، بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نوازنے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں ضمانت پر رہائی کے فیصلہ کے خلاف نیب کی اپیل پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کراد یا ہے ، تحریری جواب میں مریم نواز نے کہا کہ لندن فلیٹس سے متعلق میرے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں، نوازشریف کی لندن فلیٹس سے متعلق ملکیت ثابت کئے

بغیر مجھ پر ارتکاب جرم کا سوال نہیں اٹھایا جاسکتا نیب نے لندن فلیٹس کی قیمت کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کئے،نیب نے لندن فلیٹس کی قیمت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، بادی النظر میں نیب کورٹ کا فیصلہ درست نہیں، ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق عدالتی فیصلہ خلاف قانون ہے، نیب کی ضمانت منسوخی کی اپیل کو مسترد کیا جائے۔ ہفتہ کو بق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نوازنے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں ضمانت پر رہائی کے فیصلہ کے خلاف نیب کی اپیل پر جواب سپریم کورٹ میں جمع کراد یا ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے تحریری جواب میں مریم نواز نے کہا کہ لندن فلیٹس سے متعلق میرے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں۔ نوازشریف کی لندن فلیٹس سے متعلق ملکیت ثابت کئے بغیر مجھ پر ارتکاب جرم کا سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ ملکیت ثابت ہو بھی جائے تب بھی جرم ثابت کرنے کے لیے نیب قانون کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نیب قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے چار اصول وضع کررکھے ہیں، نیب کو ملزم کا پبلک آفس ہولڈر ہونا ثابت کرنے کا اصول طے شدہ ہے۔اثاثے معلوم زرائع آمدن سے زائد ہیں یا نہیں؟ نیب اس طے شدہ اصول کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔موقف میں کہا گیا ہے کہ نیب نے لندن میں 1993 سے 1996 تک خریدے گئے فلیٹس کی قیمت کے حوالے سے کوئی شواہد پیش

نہیں کئے،نیب نے لندن فلیٹس کی قیمت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ لندن فلیٹ کی قیمت اور معلوم آمدن کے درمیان تقابلی جائزے کے بغیر آمدن سے زائد اثاثوں کا فیصلہ کرنا ناممکن ہے۔ معلوم آمدن سے زائد اثاثوں کے تعین کے بارے میں تین عدالتی نظریریں موجود ہیں۔جواب میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں نیب کورٹ کا فیصلہ درست نہیں۔مریم نواز نے جواب دیا کہ وہ ضمانت پر رہائی کے حقدار ہے

نیب کورٹ 1993 سے 1996 کے درمیان خریدے گئے لندن فلیٹس کے حوالے سے کوئی سازش یا ارتکاب جرم کو ثابت نہیں کرسکا۔فلیٹس خریداری کے بارے میں میرے عدالتی بیان کو نواز شریف کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق عدالتی فیصلہ خلاف قانون ہے۔ مریم نواز نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ نیب کی ضمانت منسوخی کی اپیل کو مسترد کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…