پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ماں کا پیار : 12 سال بعد بیٹا کومے سے باہر آگیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)  ٹریفک حادثے کے بعد کومہ میں جانے والے چینی شہری کو 12 برس بعد ہوش آگیا، نوجوان کے اہل خانہ کا ماننا ہے کہ یہ سب والدہ کے پیار کی وجہ سے ممکن ہوا کیونکہ ڈاکٹرز اسے جواب دے چکے تھے۔ تفصیلات کے مطابق چینی شہری وانگ شباؤ سن 2006 میں ٹریفک

حادثے کے بعد زخمی ہوکر کومے میں چلا گیا تھا، ایکسڈینٹ کے وقت اُس کی عمر 36 برس تھی۔ چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وانگ شباؤ کی ماں کومے میں جانے کے بعد 12 سال تک بیٹے کی خدمت کی اور ہمہ وقت اُس کی دیکھ بھال کرتی رہی۔ ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد ڈاکٹرز نے چند روز تک تو وانگ کو اسپتال میں رکھا مگر پھر اہل خانہ کو جواب دیا کہ وہ مریض کو گھر لے جائیں کیونکہ اب زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں مگر بوڑھی ماں ینگ مینگ نے ضد کر کے بیٹے کو دوسرے اسپتال میں داخل کروایا۔ معمر والدہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک بیٹے کی خیرگیری کرتی رہی، وانگ کا علاج چونکہ مہنگا تھا تو اس کے لیے ماں نے خود فاقے کیے مگر اس امید پر اپنے بیٹے کو ہر اچھے ڈاکٹر کو دکھایا کہ ایک روز وہ دوبارہ صحت مند ہوجائے گا۔ ماں ینگ مینگ 12 برس تک اپنے بیٹے کے ہوش میں آنے کی منتظر رہی اور اس دوران وہ اُس کی ہر چیز کا بے حد خیال بھی رکھتی، وانگ کی والدہ کے دن کا آغاز صبح پانچ بجے ہوتا اور پھر وہ نصف شب تک اپنے بیٹے کی تمام ضروریات کا خیال رکھتی تھیں۔ دو روز قبل وانگ شباؤ کو جب ہوش آیا تو اُس نے اپنے قریب ماں کو بیٹھے ہوئے پایا جس کی آنکھوں سے اشک جاری تھے، بیٹے کو دیکھ کر ینگ کی خوشی کی کوئی انتہاء نہیں رہی اور اُس نے اپنے جگر گوشے کو والہانہ انداز سے چومنا شروع کردیا۔ وائی کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اُس وقت ملی جب بیٹے کو مسکراتے ہوئے دیکھا، اب اُس وانگ کی طبیعت بہت بہتر ہے اور وہ مکمل طور پر ہر چیز کو محسوس بھی کررہا ہے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے کومے سے واپس آنے کو نئی زندگی قرار دیا، ابتدائی ٹیسٹ کی رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ میرا بیٹا آئندہ چند روز میں اپنے پیروں پر چلنے لگے گا‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…