بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

کم عمری میں شادی : فٹبال سیکھنے والی لڑکیوں نے علمِ بغاوت بلند کردیا

datetime 9  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست راجستھان کی کم عمر لڑکیوں کے لیے فٹبال کا کھیل مسیحا ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے اب فرسودہ رسم کے خلاف اپنی آواز بلند کردی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے علاقے اجمیر کی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی پیدائش کے ساتھ ہی کسی کے ساتھ بھی شادی طے کردی جاتی تھی۔ ظالمانہ رواج کے خلاف

کوئی بھی آواز بلند نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی کسی نے اس فرسودہ رسم سے کم عمر بچیوں کو نجات دلائی تھی مگر اب اجمیر کی لڑکیوں کے لیے فٹبال کا کھیل مسیحا ثابت ہورہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق راجستھان کی سیکڑوں لڑکیوں نے فٹبال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن کروائی جس کے دوران اُن کے اندر اعتماد پیدا ہوا اور انہوں نے اپنا حق مانگنا شروع کردیا۔ رپورٹ کے مطابق فٹبال کی تربیت حاصل کرنے والی لڑکیاں اب پراعتماد ہوگئی ہیں اور وہ اپنی برادری میں موجود پنجائیت کے فیصلے کو مسترد بھی کردیتی ہیں۔ فٹبال کی تربیت حاصل کرنے والی لڑکی نیشا گجر اور کرن کی عمریں بالترتیب 10 اور 12 برس ہیں، دونوں لڑکیوں کی شادی پیدائش کے ساتھ ہی طے کردی گئی تھی۔ اسے بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی طالبات کم عمری کی شادیاں روکنے کے لیے متحرک راجستھان کی یہ برادری پیدائش کے ساتھ ہی کمسن لڑکیوں کو دلہن بنادیتی ہے مگر اب یہ فرسودہ رسم ختم ہونے جارہی ہے کیونکہ سب سے پہلے پنجائیت کے سامنے دو فٹبالرز نے اپنے حق میں آواز بلند کی جس کو دیکھتے ہوئے مزید لڑکیوں کو حوصلہ ملا۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران سیکڑوں بچیوں نے فٹبال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن کروائی جس کے بعد انہیں نیا حوصلہ اور عزم ملا اور انہوں نے اپنے والدین کے سامنے مطالبہ رکھا کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی وہ شادی کریں گی۔ رپورٹ کے مطابق فٹبال سیکھنے والی کچھ لڑکیاں ایسی بھی ہیں جن کی عمر 18 برس ہوگئی مگر انہوں نے رخصت ہونے سے صاف انکار کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اجمیر اور اسے کے قرب و جوار میں واقع علاقوں میں ہی سب سے زیادہ کم عمر بچیوں کی شادیاں کروائی جاتی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…