جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

نیب نے ڈبل شاہ فراڈ کے ہزاروں متاثرین کو کروڑوں روپے لوٹادیے

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے مشہورِ زمانہ ڈبل شاہ فراڈ میں ملوث افراد سے وصولی کر کے ایک ہزار 4 سو 74 متاثرہ افراد کو مجموعی طور پر 16 کروڑ 96 لاکھ 80 ہزار روپے کی رقم لوٹا دی۔ متاثرہ افراد کی ان رقوم کی ادائیگی لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں نیب کے آفس میں منعقدہ ایک خصوصیی تقریب میں کی گئی۔ نیب ذرائع کے مطابق فراڈ کا شکار

ہونے والے افراد کو رقم لوٹائے جانے کا یہ تیسرا مرحلہ تھا اور اب تک مجموعی طور پر 6 ہزار 4 سو 90 افراد کو ایک ارب 20 کروڑ روپے ادا کیے جاچکے ہیں۔ ڈبل شاہ کی یاد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے بتایا کہ سبط الحسن شاہ المعروف ڈبل شاہ بنیادی رقم کو دوگنا اور تین گنا تک بڑھانے کا وعدہ کر کے لوگوں سے رقم حاصل کیا کرتا تھا اورجو لوگ اس کے جھانسے میں آئے انہیں بعد میں پچھتانا پڑا۔ اسی طرح ہاؤسنگ اسکیم میں جلعسازی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر نیب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی فہرست کے مطابق 70 فیصد ہاؤسنگ اسکیمیں غیر قانونی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہاؤسنگ کے حوالے سے نیب کو 6 ہزار 4 سو شکایات موصول ہوئیں جس میں سے 3 ہزار 2 سو 49 متاثرہ افراد کو کل رقم لوٹائی جاچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف لاہور میں نیب نے مختلف فراڈ کی مد میں 4 ارب روپے تک کی رقم کی وصولی کی ہے جبکہ فیروز پور سٹی فراڈ میں پلی بارگین کے ذریعے 2 ارب روپے حاصل کیے گئے۔ اسی طرح ماڈل ہاؤسنگ انکلیو فراڈ میں ملزم فرحان چیمہ سے 3ا رب روپے مالیت کی جائیداد واگزار کروائی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ پاک عرب ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ 6 ماہ میں متاثرہ افراد کو 18 ارب روپے مالیت کے پلاٹ دے گی۔ اسی طرح نیب لاہور کی جانب سے ایلیٹ ٹاؤن کے متاثرین کو 30 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے جس کے ساتھ بیورو نے خیابانِ امین ہاؤسنگ سوسائٹی کو 4 ارب روپے کے پلاٹ اور گھر متاثرہ افراد کو دلوانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اور متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ دیگر افراد کو بھی 31 دسمبر تک گھر اور پلاٹ دے دیے جائییں۔ ذرائع نیب کا کہنا تھا کہ بیورو کی جانب سے سزا

دینے کی شرح 78 فیصد ہے جبکہ پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ان معاملات میں 5 فیصد سے بھی کم کامیابی حاصل ہوتی تھی۔ اس ضمن میں ایک نیب عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر حکومت کی جانب سے نیب قوانین میں ترامیم پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایف آئی اے، انسدادِ بدعنوانی کی شرح کامیابی انہائی کم ہونے کے باوجود ان اداروں کے قوانین میں ترامیم کیوں نہیں کی جارہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…