ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا قانون آئندہ ہفتے زیر بحث آ ئیگا : اسرائیل

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

تل ابیب(این این آئی)اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین نے کہاہیے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں آئندہ ہفتے اْس قانون کے حوالے سے ابتدائی رائے شماری ہو گی جس کے تحت اسرائیلیوں کے قتل یا قتل میں شرکت کے ذمّے دار ٹھہرائے گئے گرفتار فلسطینیوں کو سزائے موت

دینے کی اجازت ہو گی۔تاہم فلسطینیوں نے کہاہیے کہ قابض اسرائیلی فوج تو پہلے ہی زمینی طور پر موت کے گھاٹ اتارنے کی کارروائیوں پر عمل پیرا ہے کیوں کہ وہ ایسے نہتّے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کرتی ہے جن سے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز لیبرمین نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ تین برس کی شدید مزاحمت کے بعد آخر کار آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں آئین اور انصاف کی کمیٹی کے سامنے سزائے موت کے قانون کا بل پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد قانون کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ابتدائی رائے شماری کے واسطے پیش کیا جائے گا”۔ لیبر مین نے واضح کیا کہ مشن کے پایہ تکمیل تک وہ ہر گز نہیں رکیں گے۔قانون کے بل کے لیے لازم ہے کہ وہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں تین مرتبہ غور کے لیے پیش کیا جائے جہاں سے منظوری کے بعد وہ ایک نافذ العمل قانون کی صورت اختیار کر لے گا۔فلسطینی تنظیم برائے آزادی فلسطین (پی ایل او) کے زیر انتظام قیدیوں کے امور کی کمیٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں گرفتار فلسطینیوں کی تعداد 6500 ہو چکی ہے۔ ان میں 350 بچّے، 62 خواتین، فلسطینی پارلیمنٹ کے 6 ارکان، 500 انتظامی گرفتار شدگان (بنا کسی الزام زیر حراست) اور 1800 مریض شامل ہیں۔ مریضوں میں 700 افراد کو فوری طبّی امداد کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…