ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

شام کے الرکبان پناہ گزین کیمپ میں کئی ماہ بعد امدادی کارکن داخل ہوگئے

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

دمشق(این این آئی)اقوام متحدہ کے مندوبین کے مطابق شامی حکومت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد ہلال احمر کے امدادی کارکن پہلی بار اردن کی سرحد پرقائم الرکبان پناہ گزین کیمپ میں امدادی سامان کے ساتھ داخل ہوئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ رواں سال جنوری

کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ محاصرہ زدہ پناہ گزین کیمپ الرکبان میں امدادی کارکنوں اور خوراک کا سامان لے جانے کی سرکاری سطح پر اجازت دی گئی ہے۔دمشق میں اقوام متحدہ کے انسانی شعبے کی رابطہ کار فدویٰ بارود نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ شامی ہلال احمر کے امدادی رضاکاروں کے ذریعے امدادی قافلہ الرکبان پناہ گزین کیمپ میں داخل ہوا ہے۔ان کا کہناتھا کہ امدادی قافلے میں خوراک اور دیگر ضروری سامان سے لدے 78 ٹرک کل اتوار کو کیمپ میں داخل ہوئے۔ اس کیمپ میں ہزاروں شامی پناہ گزین کئی سو کلو میٹر کا صحرائی سفر کرکے وہاں پہنچے ہیں، مگر کیمپ میں امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور کیمپ میں آنے والے افراد بیماریوں اور بھوک کی وجہ سے مرنے لگے تھے۔قبل ازیں شامی ہلال احمر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی کہا گیاہے کہ اقوام متحدہ کے اشتراک سے ایک امدادی قافلہ الرکبان کیمپ کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس قافلے کے کیمپ تک پہنچنے میں تین سے چار دن لگ سکتے ہیں۔ قافلے کے ذریعے الرکبان پناہ گزین کیمپ میں موجود 50 ہزار شامی شہریوں کے لیے خوراک، ادویات اور دیگر سامان لے جایا گیا ہے۔خیال رہے کہ اردن کے بجائے الرکبان پناہ گزین کیمپ تک شام کے اندر سے یہ پہلا امدادی قافلہ وہاں پہنچا ہے۔ اس سے قبل اس کیمپ میں محدود پیمانے پر ہونے والی امدادی سرگرمیاں اردن کی طرف سے کی جاتی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…