اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

آسیہ بی بی کی رہائی پر شدید ردعمل،وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آسیہ بی بی کی رہائی پر شدید ردعمل،وزیراعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرلیا،پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کچھ ہی دیر بعد براہ راست قوم سے خطاب کریں گے، اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ وزیراعظم کچھ دیر بعد ہی قوم سے خطاب کریں گے، ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالت کے جرم میں قید آسیہ بی بی کے بری یہونے سمیت ،دورہ چین اور دیگراہم معاملات پر قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں سزا یافتہ آسیہ بی بی کو بری کر دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیدیا۔سپریم کورٹ نے سزائے موت کے خلاف آسیہ بی بی کی اپیل منظور کرلی۔ عدالت نے قرار دیا آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو فوری رہا کیا جائے۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آسیہ بی بی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں پانچ دن کی تاخیر کی گئی جس سے شک ہوتا ہے کہ اس دوران اپیل کنندہ کے خلاف ایک منظم سازش تیار کی گئی۔عدالت نے اس بارے میں استغاثہ کی یہ وضاحت مسترد کر دی کہ ایف آئی آر میں تاخیر اس لیے ہوئی کہ اس بارے میں حقائق کو پرکھا جا رہا تھا۔عدالت نے ماضی کے بعض اہم فوجداری مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں ایک گھنٹے کی بھی بلا جواز تاخیر شک کو جنم دیتی ہے اور اسی لیے عدالت نے تاخیر کے لیے استغاثہ کے اس عذر کو مسترد کر دیا ہے۔اس کے علاوہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ جب مدعی سے پوچھا گیا کہ اس ایف آئی آر کے لیے درخواست کس نے تحریر کی تو اس نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر کے لیے درخواست ایک وکیل نے لکھی تھی جس کا نام انہیں یاد نہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ ’یہ امر بھی اس ایف آئی آر کی سچائی پر سوال اٹھاتا ہے۔‘آسیہ بی بی کے خلاف دائر مقدمے کے مدعی قاری محمد سالم کا دعویٰ ہے کہ آسیہ بی بی نے تسلیم کیا ہے کہ ان سے گستاخی ہوئی۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جب تک کوئی شخص، چاہے وہ توہین رسالت جیسا سنگین جرم کا ملزم ہی کیوں نہ ہو، آئین میں درج مروجہ شفاف طریقہ سماعت کے بعد گناہ گار ثابت نہیں ہو جاتا، ہر شخص کو بلا امتیاز ذات پات، مذہب و نسل کے معصوم اور بے گناہ تصور کیا جائے گا۔’یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ سزا دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی فرد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور خود سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کے توہین رسالت کے ملزم کو بھی مجاز عدالت کے روبرو اپنا دفاع کرنے کا موقع ملنا چاہئے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں اور مذموم مقاصد کے حصول کے لیے جھوٹا الزام لگانے کا تدارک ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…