اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

(موجودہ) حکومت تاریخ کی انتہائی بابرکت اور طلسماتی حکومت ۔۔جس نے چیف جسٹس صاحب جیسی ٹھوس شخصیت کو بھی24 گھنٹے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا،حکومت سے دراصل این آر او مانگ کون رہاہے؟کیا آصف زرداری اورشہبازشریف کاساتھ ہونا محض اتفاق تھا؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

ہماری موجودہ حکومت تاریخ کی انتہائی بابرکت اور طلسماتی حکومت ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا کی کسی بھی اعلیٰ شخصیت اور اعلیٰ ادارے کی رائے کو چوبیس گھنٹے میں تبدیل کرنے کا فن دے رکھا ہے‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کل لاہور میں حکومت کے بارے میں فرمایا تھا، مجھے پہلی بار محسوس ہو رہا ہے ملک ترقی کی طرف ٹیک آف کر رہا ہے‘ ہم بہت جلد ترقی کی منازل طے کر لیں گے‘

چیف جسٹس نے اس کے بعد دعا فرمائی اللہ تعالیٰ ملک کو نیک‘ صالح‘ دین دار اور سچے لوگ نصیب کرے۔ ابھی اس رائے اور اس دعا کی گرمائش بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ آج وہی چیف جسٹس اسلام آباد آئی جی کی تبدیلی پر یہ فرمانے پر مجبور ہو گئے،کیا یہ ہے نیا پاکستان‘ پاکستان کو ۔اس طرح نہیں چلنا‘ ہم اسے اس طرح نہیں چلانے دیں گے‘ پاکستان کسی کی مرضی سے نہیں‘ کسی کی ڈکٹیشن اور کسی دھونس پر نہیں قانون کے مطابق چلے گا۔آپ حکومت کی برکت اور کمال ملاحظہ کیجئے اس نے چیف جسٹس صاحب جیسی ٹھوس شخصیت کو بھی24 گھنٹے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا‘ یہ کارنامہ صرف یہی حکومت سرانجام دے سکتی تھی۔ ہم آج کے ایشوز کی طرف آتے ہیں۔ احتساب کا شکار ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت حکومت سے بار بار پوچھ رہی ہے آپ سے این آر او مانگ کون رہا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے ہم کسی کو این آر او نہیں دیں گے‘ حکومت کو بہرحال وہ شخصیت بتانا پڑے گی جس نے این آر او کیلئے حکومت سے رابطہ کیا‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ ڈسکس کریں گے جبکہ وزیراعظم نے سینیٹر اعظم سواتی کے فارم ہاؤس میں گائے گھسنے کے بعد سواتی صاحب کے ایک ایس ایم ایس پر چھٹی کے دن آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کر دیا‘ اٹارنی جنرل نے آج سپریم کورٹ میں تسلیم کر لیا آئی جی کو وزیراعظم کے زبانی حکم پر ہٹایا گیا جبکہ سیکرٹری داخلہ نے دعویٰ کیا آئی جی کو ہٹانے سے پہلے مجھ سے نہیں پوچھا گیا تھا‘سپریم کورٹ نے آئی جی کی معطلی کا آرڈر معطل کر دیا اور ساتھ ہی پوچھا کیا یہ ہے نیا پاکستان؟ ہم بھی آج کے پروگرام میں شرکاء سے یہ سوال پوچھیں گے اور آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف آج پہلی بار مسکراتے ہوئے اکٹھے قومی اسمبلی میں داخل ہوئے‘ یہ محض اتفاق تھا یا پھر یہ مسکراہٹ مستقبل کی دوستی کا پیش خیمہ ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…