جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

(موجودہ) حکومت تاریخ کی انتہائی بابرکت اور طلسماتی حکومت ۔۔جس نے چیف جسٹس صاحب جیسی ٹھوس شخصیت کو بھی24 گھنٹے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا،حکومت سے دراصل این آر او مانگ کون رہاہے؟کیا آصف زرداری اورشہبازشریف کاساتھ ہونا محض اتفاق تھا؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

ہماری موجودہ حکومت تاریخ کی انتہائی بابرکت اور طلسماتی حکومت ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا کی کسی بھی اعلیٰ شخصیت اور اعلیٰ ادارے کی رائے کو چوبیس گھنٹے میں تبدیل کرنے کا فن دے رکھا ہے‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کل لاہور میں حکومت کے بارے میں فرمایا تھا، مجھے پہلی بار محسوس ہو رہا ہے ملک ترقی کی طرف ٹیک آف کر رہا ہے‘ ہم بہت جلد ترقی کی منازل طے کر لیں گے‘

چیف جسٹس نے اس کے بعد دعا فرمائی اللہ تعالیٰ ملک کو نیک‘ صالح‘ دین دار اور سچے لوگ نصیب کرے۔ ابھی اس رائے اور اس دعا کی گرمائش بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ آج وہی چیف جسٹس اسلام آباد آئی جی کی تبدیلی پر یہ فرمانے پر مجبور ہو گئے،کیا یہ ہے نیا پاکستان‘ پاکستان کو ۔اس طرح نہیں چلنا‘ ہم اسے اس طرح نہیں چلانے دیں گے‘ پاکستان کسی کی مرضی سے نہیں‘ کسی کی ڈکٹیشن اور کسی دھونس پر نہیں قانون کے مطابق چلے گا۔آپ حکومت کی برکت اور کمال ملاحظہ کیجئے اس نے چیف جسٹس صاحب جیسی ٹھوس شخصیت کو بھی24 گھنٹے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا‘ یہ کارنامہ صرف یہی حکومت سرانجام دے سکتی تھی۔ ہم آج کے ایشوز کی طرف آتے ہیں۔ احتساب کا شکار ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت حکومت سے بار بار پوچھ رہی ہے آپ سے این آر او مانگ کون رہا ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے ہم کسی کو این آر او نہیں دیں گے‘ حکومت کو بہرحال وہ شخصیت بتانا پڑے گی جس نے این آر او کیلئے حکومت سے رابطہ کیا‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ ڈسکس کریں گے جبکہ وزیراعظم نے سینیٹر اعظم سواتی کے فارم ہاؤس میں گائے گھسنے کے بعد سواتی صاحب کے ایک ایس ایم ایس پر چھٹی کے دن آئی جی اسلام آباد کو تبدیل کر دیا‘ اٹارنی جنرل نے آج سپریم کورٹ میں تسلیم کر لیا آئی جی کو وزیراعظم کے زبانی حکم پر ہٹایا گیا جبکہ سیکرٹری داخلہ نے دعویٰ کیا آئی جی کو ہٹانے سے پہلے مجھ سے نہیں پوچھا گیا تھا‘سپریم کورٹ نے آئی جی کی معطلی کا آرڈر معطل کر دیا اور ساتھ ہی پوچھا کیا یہ ہے نیا پاکستان؟ ہم بھی آج کے پروگرام میں شرکاء سے یہ سوال پوچھیں گے اور آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف آج پہلی بار مسکراتے ہوئے اکٹھے قومی اسمبلی میں داخل ہوئے‘ یہ محض اتفاق تھا یا پھر یہ مسکراہٹ مستقبل کی دوستی کا پیش خیمہ ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…