ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

نئی پابندیوں کی تلوار سَر پر : ایران انرجی ایکسچینج میں تیل فروخت کرنے لگا

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

تہران(این این آئی) ایران نے نِجی کمپنیوں کو10 لاکھ بیرل خام تیل کی فروخت کے لیے انرجی ایکسچینج کا سہارا لے لیا ہے۔ تہران کی جانب سے فی بیرل قیمت 74.85 ڈالر رکھی گئی جو ابتدائی مطلوبہ قیمت سے چار ڈالر کم ہے۔ ایران کی جانب سے ایکسچینج میں پیش کیے جانے والے مجموعی حجم میں سے 2.8 لاکھ بیرل فروخت ہو چکا ہے۔ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تیل نجی کمپنیوں

کے ایک گروپ نے بروکروں کے ذریعے خریدا ہے تاہم ان کمپنیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ان پابندیوں میں ایرانی معیشت کے طاقت ور ترین سیکٹروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ایرانی نظام اپنے خاص ایجنڈے کی پالیسیوں کو پھیلانے میں ان سیکٹروں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔نئی پابندیوں کا تیر انرجی سیکٹر بالخصوص تیل کے شعبے کے قلب میں جا کر پیوست ہو گا۔ تہران کا یہ بنیادی ستون پابندیوں کے نافذ العمل ہونے سے پہلے ہی ڈانواں ڈول ہونا شروع ہو گیا ہے کیوں کہ کئی کمپنیاں ابھی سے ایرانی تیل کی خرید سے اجتناب برت رہی ہیں۔علاوہ ازیں نئی پابندیوں میں جہاز رانی اور بندرگاہوں کا شعبہ بھی نشانہ بنے گا جس میں جہاز سازی کی صنعت بھی شامل ہے۔ اس طرح تہران کو خطّے میں اپنے حلیفوں کے لیے اسلحے کی اسمگلنگ میں سخت مشکلات کا سامنا ہو گا۔ایران کا مالیاتی سیکٹر تو پابندیوں کے پہلے مرحلے سے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایرانی مرکزی بینک اور اس کے مالیاتی لین دین پر مزید قدغن عائد ہو جائے گی۔امریکی کانگریس کے نزدیک یہ تمام پابندیاں ناکافی ہیں۔ اسی لیے کانگریس کے سینئر ارکان اور اس کے باہر مشیروں کے ایک گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران پر انتہائی دباؤ کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کریں۔ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ پابندیوں میں بعض دیگر شقیں شامل کی جائیں۔ ایسی شقیں جو عالمی مالیاتی نظام سے ایران کی مکمل علاحدگی کو یقینی بنا دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…