ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

یورپی یونین الیکشن مبصر گروپ نے 2018کے انتخابات کو شفاف قرار دے دیا،مستقبل میں بہتری کیلئے30تجاویز پیش

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) یورپی یونین کی الیکشن مبصر گروپ نے2018کے انتخابات کو شفاف قرار دے دیا، مبصر مشن نے اپنی حتمی رپورٹ میں مستقبل میں بہتری کیلئے30سفارشات دے دیں،حتمی رپورٹ کے مطابق میڈیا پر غیر اعلانیہ سنسرشپ، اجتماع کے حق پر پابندی، پولنگ سٹیشنوں کے اندر مسلح افواج کی موجودگی اور خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر انتخابت پر خدشات ابھرے،

ووٹرز کی آگاہی کا ناقص پروگرام،بذریعہ ڈاک پولنگ کا ناقص نظام، حلقہ بندیوں میں بے قاعدگیاں اور نتائج کی ترسیل میں شفافیت کی کمی نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات اٹھائے ہیں، الیکشن مبصر گروپ نے آئین اور الیکشن ایکٹ میں جائزے کی سفارش کی تاکہ آئندہ آنے والے انتخابات کا معیار بہتر بنایا جائے۔جمعہ کو یورپی یونین کے الیکشن مبصر گروپ نے پاکستان کے انتخابت 2018کے حوالے سے حتمی رپورٹ جاری کردی۔ الیکشن مبصر گروپ کے سربراہ رکن یورپی پارلیمنٹ مائیکل گیہلر نے پریس کانفرنس میں مشن کی حتمی رپورٹ پیش کی۔ الیکشن مبصر گروپ نے مستقبل میں انتخابی عمل کو بہتر بنانے کیلئے رپورٹ میں 30سفارشات بھی شال کی ہیں۔ مشن کے سربراہمائیکل گیہلر نے کہا کہ مشن کی پاکستان میں موجودگی کے دوران ہمارے مشاہدات کے تجزیے اور نتائج کے علاوہ آئندہ انتخابات2023کیلئے جامع سفارشات بھی حتمی رپورٹ میں شامل کی گئی ہیں۔2013کی انتخابات کے بعد یوری یونین الیکشن مبصر گروپ نے50سفارشات پیش کی تھیں جن میں سے38پر کلی یا جزوی طور پر عملدرآمد کیا گیا۔2018کے انتخابات کے دوران مشن کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنے فیصلوں، طریقہ کار اور عوامی دلچسپی کی دیگر معلومات کو بروقت ووٹرز تک پہنچانے میں ناکام رہا۔ووٹرز کی آگاہی کا ناقص پروگرام،بذریعہ ڈاک پولنگ کا ناقص نظام، حلقہ بندیوں میں بے قاعدگیاں اور نتائج کی ترسیل میں شفافیت کی کمی نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات اٹھائے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ٹیسٹ کیے بغیر الیکشن میں آر ٹی ایس کا نظام متعارف کرادیا جو عین الیکشن کے دن بند ہوگیا جس سے الیکشن کی شفافیت پر خدشات نے سر اٹھایا۔ الیکشن مبصر گروپ نے آئین اور الیکشن ایکٹ میں جائزے کی سفارش کی تاکہ آئندہ آنے والے انتخابات کا معیار بہتر بنایا جائے۔سیکیورٹی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشن کے اندر موجودگی پر بھی سیاسی جماعتوں نے سوالات اٹھائے۔سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی پولنگ سٹیشن کے باہر تک محدود کر کے انتخابات میں سول انتظامیہ کے دایرہ کار کو بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ2018کے انتخابات میں خواتین کی نمائندگی بہت کم تھی جبکہ خصوصی نشستوں پر ایک بھی معذور فرد کو نامزد نہیں کیا گیا۔2018کے بعد کئی شروکت داروں نے مبصر مشن کو مطلع کیا کہ

الیکشن ایکٹ کے دوبارہ جائزے اور مزید انتخابی اصلاحات کیلئے ایک نئی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو اس حوالے سے نئی قانون سازی کرے۔تکنیکی مسائل سے قطع نظر2018کے انتخابات شفاف تھے لیکن اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔انتخابات کے بعد سیاسی جماتوں نے منظم دھاندلی کی بھی شکایات کیں جن پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے امید ہے کمیٹی تمام شکایات کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے اقدامات کرے گی۔ آج پاکستان کے اندر جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہیں وہ پہلے حکومت میں رہ چکی ہیں اس لیے حکومتی جماعت اور اپوزیشن کو مل کر انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آئندہ انتخابات پر دھاندلی کے الزامات نہ لگائے جا سکیں۔انتخابات کے دن فارم45میں تاخیر اور سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشن کے اندر موجودگی پر سوالات اٹھائے گئے۔ فارم45 دینے میں تاخیر سے انتخابات کے نتائج پر خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…