اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

جعلی دستاویزکے ذریعے قیدی کو برطانیہ سے لائے جانے کا انکشاف،قمر عباس گوندل کو کیسے پاکستان منتقل کیاگیا؟افسوسناک انکشافات، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جعلی دستاویز کے ذریعے قیدی کوبرطانیہ کی جیل سے پاکستان لانے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ہمارے ملک کی کیا عزت رہ گئی ہے؟ صرف اس ایک واقعہ کی وجہ سے ہزاروں پاکستانی دنیا بھر کی جیلوں میں سڑ رہے ہیں ۔

جمعہ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے ملزمان علی محمد ملک اور قمر عباس گوندل کی بریت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی ۔ایف آئی اے کے وکیل نے بتایا کہ دوسرے ملک کے ساتھ جعل سازی کر کے قیدی قمر عباس گوندل کو پاکستان منتقل کیا گیا ۔ قمر عباس کی برطانوی جیل سے پاکستان منتقلی وزارت داخلہ کے سیکشن آفیسر علی محمد ملک کی جانب سے داخل کرائے گئے بوگس کاغذات پر 2011میں عمل میں لائی گئی ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پوچھا کہ کیا سیکشن افسر کا برطانوی حکومت کو بھیجا گیا خط موجود ہے؟وکیل نے جواب دیا کہ اصل خط نہیں ہے صرف اسکین شدہ فوٹو کاپیاں ہیں ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نے تو اس معاملے میں سیکشن آفیسر کے کردار سے متعلق ثبوت دینا ہے ۔ فوٹو کاپی یا اسکین کو ہم ثبوت کے طور پر نہیں مان سکتے ۔جسٹس آصف سعید نے کہا کہ جعل سازی کے ایسے واقعات سے ہماری دنیا میں کیا عزت رہ گئی، پھر کہتے ہیں دنیا ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتی ٗاب کوئی ملک ہمارے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں کرنا چاہتا ۔جسٹس آصف سعید نے کہا کہ ہم اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ یہ پاکستان کی عزت کا سوال ہے ۔عدالت نے قمرعباس کی پاکستان منتقلی کیلئے برطانوی حکومت کو پیش کی گئی اصل دستاویزات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت پندرہ روزکیلئے ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…