پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف میں پھوٹ، مرکز ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کتنے ارکان نے بغاوت کر دی، 20کے لگ بھگ اراکین کس جماعت میں شامل ہونے جا رہے ہیں؟کپتان کے کزن حفیظ اللہ نیازی نے دھماکہ خیز خبر دیدی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی ، تجزیہ کار اور کالم نگار حفیظ اللہ نیازی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بیانیہ نویس، چند ہفتوں میں نواز شریف، زرداری، فضل الرحمان، ANP اور کچھ دوسری پارٹیوں کو ایک صفحے پر دیکھ رہے ہیں۔ نیا بیانیہ نئے اتحاد کے ساتھ سامنے آنے کو، الّا یہ کہ زرداری رعایت لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ

نواز شریف اور زرداری مل کر عمران خان حکومت کو کبھی بھی ہٹانا پسند نہیں فرمائیں گے۔ شرارتی بلی کی طرح ، چوہاادھ موا کر کے چند سال کھیلیں گے۔ زرداری نواز شریف متفق رہیں گے کہ محنت اور تلاش بسیار کے بعد ’’آزاد نگری‘‘ کا راجہ تلاش کر ہی لیا ہے تو خاطر خواہ فائدہ اُٹھایا جائے باوجودیکہ تحریک انصاف کے مرکز، پنجاب، KP میں ناراض اراکین اسمبلی کی بہتات ہے۔ پنجاب اسمبلی کی حد تک حقیقت کہ 20کے لگ بھگ اراکین انتظار میں کہ ن لیگ رابطہ کرے۔ نواز شریف اور زرداری کو معلوم ہے کہ نئے پاکستان کے مقتدر کو منطقی انجام تک پہنچانے اور مربیوں کو سمجھانے کے لیے ضروری کہ ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کا خواب پورا ہوا۔ کیا سہانے دن آنے کو، پاکستان قرضہ لے گا نہیں ،دے گا۔ ہزاروں ڈیم بنیں گے۔ مراد سعید نے اگلے دن 200ارب ڈالر واپس لانے تھے، کچھ دیر ہوگئی ہے۔ 7ارب روپے کی روزانہ کرپشن ختم، تین ٹریلین روپے اضافی جمع، اوپر سے غیر ملکی پاکستانیوں کی طرف سے ڈالروں کی بارش، سالانہ محصولاتِ زر 50بلین ڈالرتک، دیانتدار حکمران کی عقیدت میں اس سال کم از کم 10ٹریلین روپے ٹیکس کی مد میں جمع ہونے کو ہیں۔ 50لاکھ پکے مکانات، ایک کروڑ نوکریاں تقریباً تیار، 100ارب ڈالرکی سالانہ منی لانڈرنگ بھی ختم اور سب سے اہم 300 ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں سے بینک دولتِ پاکستان میں واپس جمع کہ عمران خان کا نام

ہی کافی ہے۔زرداری، عمران، قادری کو اکٹھا جوڑا گیا تھا تو رہنما اصول ’’بے اصولی‘‘ تھا۔ آج جب نواز شریف، زداری، فضل الرحمان گٹھ جوڑ ہونے کو تو بے اصولی ہی طرہ امتیازرہنی ہے۔ امید ایک ہی کہ بے اصولی پر بننے والا یہ اتحاد شاید جمہوریت پر شب خون مارنے اورکٹھ پتلی حکومتوں کے قیام میں رکاوٹ بن پائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…