جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

گزشتہ دورہ سعودی عرب کے بعد یمن کی لیڈر شپ کی طرف سے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کیا گیا جس کے بعد ثالثی کے عمل پر کام شروع ہوا،پاکستان اب کیا کرنیوالا ہے؟فواد چوہدری کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات اور چین سے بیل آؤٹ پیکج ملنے کی امید ہے‘ ان پیکجز سے اگلے دو سال کی پریشانیوں سے نکل جائیں گے‘ پاکستان کو جب بھی ضرورت پڑی سعودی عرب نے آگے بڑھ کر ہماری مدد کی‘ یمن اور سعودی عرب میں ثالثی کا ہوم ورک وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ دورہ سعودی عرب سے شروع ہوا‘ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان پہلی بار مشرق وسطیٰ میں اہم کردار ادا

کرنے جارہا ہے، ڈالر مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے‘ کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے بدھ کو ایک انٹرویو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے ہمارا مختلف شعبوں میں گہرا تعلق ہے، سعودی عرب کا مفاد اس میں ہے کہ پاکستان کمزور نہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے گزشتہ دورہ سعودی عرب کے بعد یمن کی لیڈر شپ کی طرف سے وزیراعظم سے رابطہ کیا گیا جس کے بعد ثالثی کے عمل پر کام شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کی جنگ میں فریقین کے تحفظات ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کے بڑے فیصلوں سے مالی خسارہ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے کئی بڑے فیصلے کئے خاص طور پر ملک بھر میں گیس کی قیمتوں کو یکساں کرنے سے پنجاب میں بند پڑی سینکڑوں ملیں چلنا شروع ہوئی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ہر سال 40 ارب ڈالر ملک میں بھیجتے ہیں جن میں سے 20 ارب ڈالر بنکوں اور قانونی ذرائع سے آتا ہے جبکہ 20 ارب ڈالر غیر قانونی ذرائع سے ملک میں پہنچتے ہیں، موجودہ حکومت کے اقدامات سے امید ہے کہ مزید کئی ارب ڈالر قانونی ذرائع سے پاکستان آیا کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈالر مہنگا ہونے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے‘ کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے جسے روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ وفاقی وزیر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے جو اطلاعات فراہم کی گئی ہیں اس کے مطابق پی آئی ڈی میں لگنے والی آگ دفاتر تک محدود رہی جبکہ ریکارڈ محفوظ رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…