پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے زریعے خواتیں کو ہراساں کرنے کا رحجان بڑھ گیا،209افراد گرفتار ، 225مقدمات درج

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے زریعے خواتیں کو ہراساں کرنے کا رحجان بڑھ گیا،ایف آئی اے نے رواں برس سوشل میڈیاکے مجرمانہ استعمال کے الزام میں 209افراد کوگرفتار کیا جبکہ 225مقدمات کا اندار ج کیا،ایف آئی اے سے ملنے والے اعداد وشمارکے ،مطابق پاکستان میں گزشتہ تیں برسوں سے سائبر کرائم کی شرح میں اضافہ ہو تاجارہاہے ،

سال2016 میں ایف آئی اے کوسائبر کرائم کے حوالے سے 514شکایات وصول ہو ئیں تھیں،جن پر تفتیش کے بعد 47مقدمات درج کر کے ان میں ملوث 74 کو گرفتار کیا گیا، 2016 میں 1270شکایات اور 2018میں اب تک درج شکایات کی تعداد بڑھ کر 2295ہو گئیں 2107میں 207مقدمات درج کر کے 160افراد کو گرفتار کیاگیا،جب کہ 2018میں درج مقدمات کی تعدادبڑھ کر 255اور ان میں گرفتارافرادکی تعداد 209ہو گئی ،ان افرا د کو پری ویشن آف الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2016کے تحت گرفتار کیاگیا، ا واضح رہے کہ ملک میں سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر ہونے والے بیشتر جرائم کا شکار خواتیں ہوتی ہیں،جن میں مختلف طریقے استعمال کر کے خواتیں کو بلیک میل کیاجاتاہے ،ایف آئی اے سائبرکرائم سیل کے ڈرایکٹر کیپٹن (ر)محمد شعیب کے مطابق ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں سائبر کرائم کے بارے میں مہارت رکھنے والے صرف 10افسراں ہیں ،جو ان جرائم پر قابوپانے اور ان میں ملوث افرادکاسراغ لگانے کی کوشش میں ہیں،ایف آئی اے ذرائع کے مطابق ایف آئی اے پاکستاں بھر میں15سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر قائم کررہی ہے ،جن میں سے 5پنجاب 3سندھ،3کے پی کے ،2بلوچستاں اور ایک ایک اسلام آباد اور گلگت میں قائم کیاجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…