جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’جرم ثابت ہونے سے قبل نیب کا ملزم کو گرفتار کرنا آئین کے آرٹیکل 10کی خلاف ورزی ہے؟‘‘شہباز شریف کی ضمانت کیلئے دائر درخواست پر بڑا فیصلہ سنادیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (ا ین این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کی ضمانت کیلئے دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ گزشتہ روز ہائیکورٹ کے جسٹس باقر نجفی اور جسٹس انوارلحق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

شہباز شریف کی ضمانت کیلئے لائرز فاؤنڈیشن کی جانب سے اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں انکوائری مکمل ہونے اور جرم ثابت ہونے سے قبل گرفتار کیا گیا حالانکہ انکوائری مکمل اور جرم ثابت ہونے سے قبل نیب کا ملزم کو گرفتار کرنا آئین کے آرٹیکل 10کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چیئرمین نیب کا دوران انکوائری کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار آئین سے متصادم ہے، چیئرمین نیب نے شہباز شریف کو کیس میں فری اور فیر ٹرائل کا حق نہیں دیا، آرٹیکل 10 کے تحت فری اینڈ فیر ٹرائل ہر ملزم کا بنیادی حق ہے ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ نیب کا سیکشن 24 آئین کی متعدد دفعات کے منافی ہے جس کی وجہ سے انویسٹی گیشن یا انکوائری کے دوروان گرفتار نہیں ہو سکتی۔لہٰذاعدالت چیئرمین نیب کا شہباز شریف کی گرفتاری کالعدم قرار دے۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ۔بعد ازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…