پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانیوالا اور دہشتگردی سے نجات دینے والاغدار ہوتا ہے؟اگر میں غدار ہوں تو مجھے ووٹ دینے والے کروڑوں پاکستانی۔۔ نواز شریف کاغداری کیس میں جواب عدالت میں جمع، کونسا قانون بنانیکا مطالبہ کر دیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ غداری جیسا سنگین الزام ناقابل تصور ہے، مجھے وزیراعظم بنانے والے کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہے، کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والا اور ملک کو دہشتگردی سے نجات دینے والا غدار ہوتا ہے،وقت آگیا ہے کہ کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا

جرم قرار دیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے غداری کیس میں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کیے گئے جواب کی کاپی میں مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد نے موقف اختیار کیا کہ غداری جیسا سنگین الزام ناقابل تصور ہے جب کہ میرے زہن میں کئی سوال اٹھ رہے ہیں، کیا پاکستان کے عوام بھی غدار ہیں۔عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ ملے، کیا یہ الزام کروڑوں پاکستانیوں پر نہیں، مجھے وزیراعظم بنانے والے کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہے، کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والا غدار ہوتا ہے، کیا ملک کو دہشتگردی سے نجات دینے والا غدار ہوتا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک ڈیکٹیٹر کے اقدام کو غیر آئینی قراردے کر غداری کا مقدمہ چلانے کا کہا، اس مقصد کے لیے خصوصی عدالت بنی، کسی کو معلوم ہے کہ وہ ڈکٹیٹر کہاں ہے، کب سے وہ پاکستان کے نظام انصاف کا مذاق اڑا رہا ہے، وقت آگیا ہے کہ کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔کیا پاکستان کے عوام بھی غدار ہیں۔عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ ملے، کیا یہ الزام کروڑوں پاکستانیوں پر نہیں، مجھے وزیراعظم بنانے والے کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہے، کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والا غدار ہوتا ہے، کیا ملک کو دہشتگردی سے نجات دینے والا غدار ہوتا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک ڈیکٹیٹر کے اقدام کو غیر آئینی قراردے کر غداری کا مقدمہ چلانے کا کہا، اس مقصد کے لیے خصوصی عدالت بنی، کسی کو معلوم ہے کہ وہ ڈکٹیٹر کہاں ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…