جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانیوالا اور دہشتگردی سے نجات دینے والاغدار ہوتا ہے؟اگر میں غدار ہوں تو مجھے ووٹ دینے والے کروڑوں پاکستانی۔۔ نواز شریف کاغداری کیس میں جواب عدالت میں جمع، کونسا قانون بنانیکا مطالبہ کر دیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ غداری جیسا سنگین الزام ناقابل تصور ہے، مجھے وزیراعظم بنانے والے کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہے، کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والا اور ملک کو دہشتگردی سے نجات دینے والا غدار ہوتا ہے،وقت آگیا ہے کہ کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا

جرم قرار دیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے غداری کیس میں لاہور ہائی کورٹ میں جمع کیے گئے جواب کی کاپی میں مسلم لیگ (ن)کے تاحیات قائد نے موقف اختیار کیا کہ غداری جیسا سنگین الزام ناقابل تصور ہے جب کہ میرے زہن میں کئی سوال اٹھ رہے ہیں، کیا پاکستان کے عوام بھی غدار ہیں۔عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ ملے، کیا یہ الزام کروڑوں پاکستانیوں پر نہیں، مجھے وزیراعظم بنانے والے کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہے، کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والا غدار ہوتا ہے، کیا ملک کو دہشتگردی سے نجات دینے والا غدار ہوتا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک ڈیکٹیٹر کے اقدام کو غیر آئینی قراردے کر غداری کا مقدمہ چلانے کا کہا، اس مقصد کے لیے خصوصی عدالت بنی، کسی کو معلوم ہے کہ وہ ڈکٹیٹر کہاں ہے، کب سے وہ پاکستان کے نظام انصاف کا مذاق اڑا رہا ہے، وقت آگیا ہے کہ کسی شہری کی پاکستانیت کی توہین کو بھی قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔کیا پاکستان کے عوام بھی غدار ہیں۔عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ ملے، کیا یہ الزام کروڑوں پاکستانیوں پر نہیں، مجھے وزیراعظم بنانے والے کروڑوں پاکستانیوں کی حب الوطنی مشکوک ہے، کیا ملک کو ناقابل تسخیر بنانے والا غدار ہوتا ہے، کیا ملک کو دہشتگردی سے نجات دینے والا غدار ہوتا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے ایک ڈیکٹیٹر کے اقدام کو غیر آئینی قراردے کر غداری کا مقدمہ چلانے کا کہا، اس مقصد کے لیے خصوصی عدالت بنی، کسی کو معلوم ہے کہ وہ ڈکٹیٹر کہاں ہے،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…