پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کیا شہبازشریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی اپوزیشن لیڈر بننے والے ہیں؟ سابق وزیراعظم زیر گردش خبروں کے بعد خود میدان میں آگئے ،بڑا اعلان کردیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور( آن لائن )سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ہی ہوں گے خواہ وہ جیل میں ہی کیوں نہ ہوں، اگر میں اس وقت کا وزیراعظم ہوتا تو ہرگز آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتا، نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیے میں کوئی فرق نہیں ہے، چودھری نثار علی خان کو منانے کے لیے ان کے پاؤں پکڑنے کے علاوہ ہر ممکن کوشش کی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ابراج گروپ کو کے الیکٹرک شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اس حوالے سے میری عارف نقوی سے بیسیوں ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن انہوں نے مجھے پیسے کی کوئی آفر نہیں کی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لاہور کے حلقہ این اے 124 کے ضمنی انتخاب میں 75 ہزار 12 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ضمنی انتخاب میں شاہد خاقان عباسی کی کامیابی کے بعد قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے شہباز شریف کی چھٹی کے امکانات روشن ہو گئے تھے اور امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ شہباز شریف کو ہٹا کر شاہد خاقان عباسی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر بنایا جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی کی کامیابی سے شہباز شریف کے لیے خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی نظر آرہی تھی،امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پارٹی قائد نواز شریف اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کا عہدہ شہباز شریف سے لے کر شاہد خاقان عباسی کو سونپ دیں گے۔کیونکہ مسلم لیگ ن کو حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے شہباز شریف جیسے تحمل مزاج لیڈر کی ضرورت نہیں ہے ۔انہیں کسی ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو نواز شریف کے بیانیے کو لے کر آگے چلے اور قومی اسمبلی میں بھی ان کی ہدایات لے کر چلے۔ اور اس کے لیے نواز شریف شاہد خاقان عباسی پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔

لیکن شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے شہباز شریف جو بیانیہ لے کر چل رہے تھے وہ غلط ثابت ہو گیا اور اس سے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے بیانیے کو تقویت ملی ، تاہم اب نواز شریف ہوں یا شہباز شریف پوری مسلم لیگ ن کا ایک ہی بیانیہ ہے اور وہ بیانیہ نواز شریف کا بیانیہ ہے جو درست ثابت ہو گیا ہے۔نواز شریف اور شہباز شریف کا بیانیہ ایک ہونے سے ان کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹانے کا امکان بھی معدوم ہو گیا ہے اوراس حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے بھی واضح بیان دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف ہی رہیں گے پھر چاہے وہ جیل میں ہی کیوں نہ رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…