پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ کے میگا منصوبے میں غیر ملکی بینک اورسرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی ،ناممکن نظر آنے والا منصوبہ کیسے مکمل ہوگا؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ کے میگا منصوبے میں غیر ملکی بینک سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ عالمی بینک اس حوالے سے سرمایہ کاری کرے گا جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 10 ملین گھروں کی تعمیر کی ضرورت ہے کیونکہ عام آدمی گھر کی تعمیر کرنا چاہتا ہے لیکن محدود وسائل ہیں اس کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔سرکاری ٹی وی سے بات چیت میں حکومت کے اکانومی اور انرجی کے ترجمان ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ منصوبے سے نہ صرف عوام کو سہولت حاصل ہو گی بلکہ اس سے قومی معیشت کے مختلف شعبے بھی ترقی کریں گے۔ انہوں نے پروگرام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اس پروگرام کے حوالے سے جامع اور ٹھوس حکمت عملی موجود ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اس پروگرام میں حکومت سہولت کار کا کردار ادا کرے گی جبکہ نجی شعبہ اور بلڈرز منصوبہ پر سرمایہ کاری کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 ملین گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے حوالے سے حکومت نے 40 فیصد گھر دیہی علاقوں، 40 فیصد شہری اور 20 فیصد گھر دور دراز علاقوں میں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو رہائشی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔  وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کردہ ’’نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام‘‘ کے میگا منصوبے میں غیر ملکی بینک سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ عالمی بینک اس حوالے سے سرمایہ کاری کرے گا جس سے اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 10 ملین گھروں کی تعمیر کی ضرورت ہے کیونکہ عام آدمی گھر کی تعمیر کرنا چاہتا ہے لیکن محدود وسائل ہیں اس کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…