پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس ،نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، سعد رفیق، پرویزرشید، عابد شیر علی، چوہدری نثاربھی زدمیں آگئے،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( این این آئی ) پاکستان عوامی تحریک نے نواز شریف اور شہبازشریف کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بلانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ درخواست میں نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویزرشید، عابد شیر علی، چوہدری نثار، توقیر شاہ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں لاہورہائیکورٹ اورٹرائل کورٹ کا فریقین کو عدالت میں نہ بلانے کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)نے ماڈل ٹاؤن سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے طاقت کا استعمال کیا، اس موقع پر 10 معصوم لوگوں کی جانیں لی گئیں، سپریم کورٹ فریقین کو طلب کرنے کا حکم صادر کرے۔پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جو کیس عدالت میں چل رہا ہے اس حوالے سے حکومت ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرسکتی، کیس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بیوروکریسی ہے، بیوروکریٹ ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پراسیکیوٹرٹیم تبدیل کردی جس سے انصاف کا حصول آسان ہوگا۔اس حوالے سے وفاقی وزیرمذہبی پیرنورالحق قادری نے کہا کہ تحریک انصاف پہلے دن سے سانحہ ماڈل ٹاؤن پرعوامی تحریک کے ساتھ کھڑی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتل اپنے انجام تک پہنچ رہے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک نے نواز شریف اور شہبازشریف کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں بلانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔ درخواست میں نوازشریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، پرویزرشید، عابد شیر علی، چوہدری نثار، توقیر شاہ اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…