پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ہم تو اپنے بچوں کے نام دوسرے مذاہب کی شخصیات کے ناموں پر رکھتے ہیں ،خواہش ہے کہ کوئی دوسرا بھی محمد، حسین اور حسن کے نام رکھے۔۔۔ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ مظلوم کی آہ خدا تک پہنچتی ہے،سانحہ ماڈل ٹائون کے کردار بھی کیفر کردار اور عبرتی انجام تک پہنچ جائیں گے ،پاکستان سب اکائیوں اور سب مذاہب کے لیے ہے اور یہ ہزاروں سال تک رہنے والا ملک ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز منہاج یونیورسٹی لاہور اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے

مشترکہ تعاون سے دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کے پہلا روز خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانفرنس میں وائس چیئرمین منہاج یونیورسٹی ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، جنرل سیکرٹری پاکستان عوامی تحریک خرم نواز گنڈاپور پور ،متروکہ وقف املاک بورڈ کے سکرٹری طارق وزیرخان ،مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی شخصیات سمیت غیر ملکی سکالرز نے بھی شرکت کی ۔ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا کہ میں اور میرا خاندان شیخ الاسلام کا بڑا احترام کرتا ہے ،ان سے 36 سالہ پرانا تعلق ہے ۔ملک میں امن و امان کے قیام اور مذہبی رواداری کے لیے طاہر القادری کی بڑی خدمات ہیں ،عمران خان اور پاکستان حکومت کی جانب سے ڈاکٹر طاہر القادری کی خدمات کے شکرگزار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام تمام مسالک کو قبول کرتا ہے اور اس کا مطلب سلامتی ہے ،دین کہتا ہے کہ ہر مذہب اور اس کے پیغمبر کا مکمل احترام کریں ،ہم تو اپنے بچوں کے نام دوسرے مذاہب کی شخصیات کے ناموں پر رکھتے ہیں ،خواہش ہے کہ کوئی دوسرا بھی محمد، حسین اور حسن کے نام رکھے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو انصاف، برداشت اور رواداری کی بات کرتے ہیں ،اپنے رویوں میں فرق لانا ہوگا کیونکہ اسی سے معاشرہ بنتا ہے ۔آج ہم کس طرف چل پڑے ہیں، مارو مارو اور کافر کافر کے علاوہ ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں ،علمی اور تحقیقی کام جس کی صدیوں سے ضرورت تھی

وہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پوری کی۔پاکستان سب اکائیوں اور سب مذاہب کے لیے ہے اور یہ ایک ،دس نہیں بلکہ ہزاروں سال تک رہنے والا ملک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کی آہ خدا تک پہنچتی ہے،سانحہ ماڈل ٹاون کے کردار بھی کیفر کردار اور عبرتی انجام تک پہنچ جائیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…