بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

’مونا لیزا‘ کی تخلیق آنکھوں کی بیماری کا کرشمہ؟

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انسانی جسم کی بات کی جائے تو اس میں آنکھوں کو بہت اہمیت حاصل ہے، یہ نہ صرف ہماری زندگی کو روشن رکھتی ہیں بلکہ جسم کا انتہائی حساس عضو بھی ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ اسمارٹ اسکرینز کے کثیر استعمال کی وجہ سے آنکھوں کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں بینائی کمزور ہونا، آنکھوں کی سوزش، بھینگا پن، موتیا اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔

جدید دور میں تحقیق کے میدان میں بھی آنکھوں سے متعلق نت نئے انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں آنکھوں کا ایک نایاب مرض سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے ایک آنکھ اپنے بصری محور (Visual Axis) سے باہر آجاتی ہے، یہ بھینگا پن کی ایک قسم ہے۔ اس تحقیق کی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مرض تقریباً 500 سال پرانا ہے اور اس کا تعلق دنیا کی نایاب ترین تصویر ’مونا لیزا ‘ کے نامور مصور لیونارڈو ڈاونچی سے ہے۔ اکثر طور پر سمجھا جاتا ہے کہ چیزوں میں خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کا کردار اہم ہوتا ہے، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی اب تک کی سب سے نایاب پینٹنگ آنکھوں کی بیماری کے باعث ہی اتنی خوبصورتی سے تیار ہوئی۔ اس حیران کن نئی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ لیونارڈو ڈا ونچی ‘ایگزوٹروپیا’ نامی آنکھوں کی نایاب بیماری میں مبتلا تھے۔ آنکھوں کے اس مرض کی وجہ سے وہ ہموار سطح پر اشیا کے فاصلے اور گہرائی کی تصویر کشی کرتے تھے، یہی بیماری ان کی وجہ شہرت بھی بنی۔ سائنس جرنل ‘جاما اوفتھلمولوجی’ میں شائع تحقیق میں پروفیسر کرسٹوفر ٹیلر نے وضاحت کی کہ ’ لیونارڈ ڈاونچی کی پینٹنگز میں آنکھوں میں موجود فرق واضح تھا‘۔ اس تحقیق کے لیے لیونارڈو ڈاونچی کے 2 مجسموں، 2 آئل پینٹنگز اور 2 تصاویر میں نظر کی سمت کا تجزیہ کیا گیا تھا جن میں ایگزوٹروپیا نامی بیماری کے شواہد ملے جن میں ایک آنکھ اپنے مخصوص زاویے سے باہر جارہی تھی۔ اس نئی تحقیق کے محقق کرسٹوفر ٹیلر نے ہر پینٹنگ پر آنکھوں کی سمت کے جائزہ کے لیے پیوپل (Pupil)، آئرس (Iris) اور آئی لڈز (Eyelids) پر دائرے بنا کر ان کی پوزیشن کا جائزہ لیا تھا۔ دائروں سے لی گئی اس پیمائش کو جب اینگل میں تبدیل کیا گیا تو معلوم ہوا کہ لیونارڈو

ڈاونچی شاہکار پینٹنگ بناتے وقت ایگزوٹروپیا نامی آنکھوں کی ایک بیماری میں مبتلا تھے، جس وجہ سے ان کی ایک آنکھ عام حالت میں اپنے محور سے منفی 10.3 ڈگری باہر تھی، لیکن جب وہ کسی چیز پر نگاہ مرکوز کرتے تھے تو آنکھ کا اینگل ٹھیک ہوجاتا تھا۔ لیونارڈو ڈا ونچی کے یہ تمام 6 شاہکار سیلف پورٹریٹ نہیں تھے لیکن انہوں نے ہی لکھا تھا کہ مصور کا ہر پورٹریٹ اس کے ظاہر کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مونا لیزا کی پینٹنگ کے خالق کی بائیں آنکھ اس نایاب

مرض سے متاثر تھی جس سے دنیا کی ایک فیصد آبادی متاثر ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ مصور کو لاحق اس بیماری کی وجہ سے وہ دنیا کو ایک الگ نظریے سے دیکھتے تھے، انہیں دیگر افراد کی بجائے ایک تھری ڈائیمینشل سطح کی جگہ ہموار کینوس دکھائی دیتا تھا، جس کی وجہ سے وہ باآسانی کینوس پر منفرد تصاویر بناتے تھے۔ خیال رہے کہ اسی طرح کی تحقیقی تکنیکوں کے ذریعے پکاسو، اڈگار ڈیگاس اور دیگر نامور مصوروں میں آنکھوں کی بیماریوں کا پتہ لگایا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…