پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

آئندہ اس علاقے میں کسی عورت کو بغیر دوپٹے کے داخل نہ ہونے دیا جائے، صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کے مبینہ احکامات پر عملدرآمد شروع، خواتین ششدر

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) ایک خاتون ڈاکٹر کو پولیس اہلکاروں نے سول سیکرٹریٹ میں بغیر دوپٹے کے داخل ہونے سے روک دیا، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں پولیس اہلکار خاتون ڈاکٹر کو روک رہے ہیں، پولیس اہلکار نے کہا کہ گزشتہ روز میو ہسپتال سے کچھ نرسیں صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد سے ملنے آئیں جن کے لباس پر انہوں نے اعتراض کیا تھا اور ہمیں صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین اور ایک اور وزیر نے زبانی طور پر آرڈر کیے ہیں کہ دوپٹے کے بغیر کسی خاتون کو نہ آنے دیا جائے۔

اس موقع پر خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ میرا لباس تو ایسا نہیں ہے، اس پر پولیس عہدیدار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کسی کو ڈوپٹے کے بغیر انٹری کی اجازت نہیں اس پر خاتون نے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی تحریری حکم نامہ موجود ہے تو پولیس اہلکار نے کہا کہ صوبائی وزیر کی جانب سے کوئی تحریری حکم نامہ نہیں کیا گیا بلکہ یہ احکامات زبانی دیے گئے ہیں، اس موقع پر پولیس والے نے کہا کہ ایک اور وزیر نے کہا کہ یار آپ لوگوں کی بھی آنکھیں ہیں کہ آپ ادھر سے ہی ایسے لوگوں کو نہ آنے دیں کہ ہر بندہ ان کو ہی تکتا رہے کیا آپ کو یہ اچھا لگے گا، خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ میرے لباس ایسا نہیں کہ آپ اس پر اعتراض کر سکیں، اس موقع پر اہلکار نے کہا کہ آپ دوپٹہ لے لیں، خاتون نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگر میں اس لباس میں علما کو بھی ملوں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ خاتون ڈاکٹر نے کہا کہ سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا گلے میں دوپٹہ لینا ہے یا سرپر دوپٹہ اوڑھنا ہے، اس کے جواب میں پولیس والے نے کہا کہ اگر آپ دوپٹہ نہیں لینا چاہتیں تو کوئی پٹی ہی لے لیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی جانب سے ایک ٹویٹ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین کی جانب سیایسا کوئی آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے، یہ بنیاد اور الزام ہے، کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر الزام نہیں لگانا چاہیے، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی ہدایت نہیں دی گئی، اس کا نوٹس لے لیا ہے ان گارڈز کو شوکاز نوٹس جاری کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…