پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

حیرت انگیز کارنامہ !! سائنسدانوں نےکپاس کو انسانوں کیلئے بطور خوراکاستعمال کے قابل بنادیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)امریکہ میں تبدیل شدہ کپاس اگانے کی اجازت دے دی گئی ہے جسے بطورخوراک بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہے۔امریکہ کی وزارت کاشت کاری، حیوانات و حیاتیات کی صحت نے تبدیل کی گئی کپاس کی کاشت پرعائد پابندی کو ہٹا دیا ہے۔ اس تبدیل کی گئی کپاس کا بیج ٹیکسس اور ایلبیما اے انڈ ایم یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے۔اس کے پہلے بھی کپاس کو حیوانوں کے لیے خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن عمومی طور پر بھیڑ، بکریوں اور

مویشیوں کو کپاس بطورخوراک دی جاتی ہے تاہم عام کپاس ایک کیمیکل گوسیپول کی وجہ سے انسانوں کی خوارک کے لیے مناسب نہیں۔اس بیج کو تیار کرنے والے سائنس دان کریتی راٹھورکے مطابق کپاس کی اس کیمیکل بنانے کی صلاحیت ختم کرکے اس کو انسانوں کی خوراک کے لیے کابل استعمال بنا دیا گیا۔انہوں نے بتایاکہ اگر کپاس کا تیل نکال لیا جائے تو انسان اس کو کھا سکتے ہیں۔ تیل کا استعمال بھی کھانا بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ایسا ہوا تو ایشیا اور افریقہ کی غذائیت کی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…