منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

یمن ، جنگ بندی کے باوجو لڑائی جاری، مزید 10 افراد ہلاک

datetime 16  مئی‬‮  2015 |
Tribesmen gather to show support to fighters of the anti-Houthi Popular Resistance Committee near Yemen's southwestern city of Taiz May 9, 2015. REUTERS/Stringer TPX IMAGES OF THE DAY

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یمن میں جاری پانچ روزہ جنگ بندی کے باوجود وسطی شہر تعز میں حوثی باغیوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے ۔یمن کے بیشتر علاقوں میں منگل سے شروع ہونے والی جنگ بندی نافذ العمل ہے جس کا مقصد 26 مارچ سے جاری عرب ملکوں کی بمباری اور حوثی باغیوں کے حملوں کے باعث مشکلات کا شکار لاکھوں یمنی شہریوں کو خوراک، پانی، ایندھن، دوائیں اور دیگر امدادی سامان بہم پہنچانا ہے۔اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی پیش قدمی اور عرب ملکوں کی جوابی فضائی کارروائی کے نتیجے میں یمن میں کم از کم تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں جب کہ لاکھوں افراد کو خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔لیکن وسطی شہر تعز کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مقامی ملیشیا اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں کم از کم 10 افراد مارے گئے ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دہالیہ شہر میں بھی باغیوں اور قبائلیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں جن میں تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔جنوبی ساحلی شہر عدن کے ایک رہائشی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ جنگ بندی سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور شہر بدستور حوثیوں کے قبضے میں ہے جس کے خلاف مقامی افراد مزاحمت کر رہے ہیں۔دریں اثنا یمن کے سرحدی قبائل نے خبر دی ہے کہ حوثی باغی سعودی عرب اور یمن کے سرحدی علاقے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔یمن میں اقوامِ متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کے نگران نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد پر زور دیا ہے کہ وہ یمن جانے والے سامان کی سخت جانچ پڑتال میں نرمی کریں تاکہ امدادی سامان کی رسائی تیز کی جاسکے۔امداد لے جانے والی تمام پروازیں متحدہ عرب امارات سے دارالحکومت صنعا جارہی ہیں جو گزشتہ سال ستمبر سے حوثی باغیوں کے قبضے میں ہے۔اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز بھی حدیدہ اور عدن کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہوچکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف جمعے کو حدیدہ اور المکلا کی بندرگاہوں پر امدادی سامان لے کر سات جہاز پہنچے ہیں جن پر ایندھن، گندم اور خوراک کا دیگر سامان لدا ہوا ہے۔دارالحکومت صنعا میں پیٹرول پمپ بھی جمعرات کی شب سے کھل گئے ہیں جہاں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…