پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

نیب دجال کی طرح ایک آنکھ رکھتا ہے ، انیل مسرت کون ہے؟ زلفی بخاری کی کیا خدمات ہیں؟اگر یہ حکومت چھ مہینے چل گئی توپھر کیا ہوگا؟ انتہائی سنگین دعوے کردیئے گئے 

datetime 10  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آئی این پی) سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ دجال کی طرح ایک آنکھ رکھتا ہے ، یہ باقی لوگوں پرکیوں ہاتھ نہیں ڈالتا، وزراء حملہ حکومتی حیثیت سے کرتے ہیں اورچھپتے نیب کے پیچھے ہیں ، انیل مسرت کون ہے؟ زلفی بخاری کی ملک کے لئے کیا خدمات ہیں جو ان کو عہدے دیے جارہے ہیں ، حکومت نے پچاس دنوں میں مہنگائی کے ریکارڈ بنا دیے ہیں ، تحریک انصاف توکہتی تھی ہمارے پاس 200ماہرین ہیں،

یہی ماہر ملک کوتباہ کر رہے ہیں، اگر یہ حکومت چھ مہینے چل گئی تواس ملک میں کوئی غریب اور سفید پوش آدمی نہیں بچے گا ، آئی ایم ایف قرض نہیں مرض دے رہا ہے ، یہ دھوکہ ہے کہ آئی ایم ایف ہمیں پاؤں پرکھڑا کرے گا، ان لوگوں نے آئی جی پنجاب کو گھر بھیج دیا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم پولیس کو سیاسی اثرو رسوخ سے پاک کریں گے، ان خیالات کا اظہار بدھ کو سینیٹ میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سینیٹر مشاہداللہ خان ، آصف کرمانی اور مشتاق احمد سمیت دیگر نے کیا ۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ وزراء نئے آئے ہیں ، یہ ٹرین ہوجائیں گے، دوچار ملاقاتوں میں آہستہ آہستہ اورکھل جائیں گے ۔مشاہد اللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف والے تو انقلاب اور تبدیلی کی باتیں کرتے تھے،اگر انہوں نے ہمارے نقش قدم پر چلنا ہے تو انقلاب کی باتوں کی ضرورت ہی کیا تھی ، بقول آپ کے ہم میں اور آپ میں زمین آسمان کا فرق ہے، آپ کہتے ہیں کہ ہم نے ملک کو تباہ کردیا پھر آپ ہمارے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔ مشاہداللہ نے کہا کہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے رو رہے ہیں ،حکومت کہتی ہے کہ نیب ہمارے نیچے نہیں ہے لیکن ہمیں دھمکیاں دی گئی ہیں اورانتقام کی باتیں کی گئی ہیں ، شہباز شریف نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہیں کا اس مختلف ادارے اقرار کرتے ہیں ، اس کی گواہی ترکی اورچین سے بھی آتی ہے ، تمام حدیں اور تعزیریں انہی لوگوں کیلئے رہ گئی ہیں جو سر جھکانانہیں جانتے ، پانی کے کیس میں بلاتے ہیں اورآشیانہ کے کیس میں پکڑتے ہیں

اوربہت سارے لوگوں کے خلاف نیب میں ریفرنس ہے لیکن وہ وزیربنے ہوئے ہیں ، وزیر دفاع،وزیراعظم اور زلفی بخاری کا نام بھی ہے ، جہانگیر ترین کے ڈرائیور اورباورچی کے اکاؤنٹس نکلے تھے ، انصاف کرنا ہے توانصاف کرو، نام تحریک انصاف رکھا ہے اوراپنے لوگوں کو نوازرہے ہیں ، جنہوں نے ملک کی خدمت کی ہے ان کیخلاف کارروائی کر رہے ہیں ، تحریک انصاف توکہتی تھی ہمارے پاس 200ماہرین ہیں، یہی ماہر ملک کوتباہ کر رہے ہیں،

آپ کو عوامی اہمیت کا پتہ ہوتا تو ڈالر 138کا نہ ہوتا ، گیس ، پیٹرول کی قیمتیں کتنی بڑھ گئی ہیں ،یہ پہلے بڑھکیں مارتے تھے کہ پیٹرول 45روپے کا کر دیں گے ، ان کے پاس ڈیم کیلئے دو تین ارب اکٹھانہیں ہوا، لوگ اگر انہیں ووٹ دیتے تونوٹ بھی دیتے ، یہ کٹھ پتلی حکومت ہے ، انہیں پتہ ہی نہیں کہ یہ حکومت میں ہیں ، ہوش کے ناخن لیں اور دھمکیاں نہ دیں ، کٹھ پتلی وزیراعظم کو بھی سمجھائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم احتجاج جاری رکھیں گے ، شہباز شریف کو رہا کرنا چاہیے اورانتقامی کارروائیاں بندکی جانی چاہیئیں ۔

سینیٹر ستارہ ایاز نے کہاکہ یہاں ایسی صورتحال بن گئی ہے جیسے گاؤں کی خواتین آپس میں لڑتی ہیں، معیشت کو اس پر چلانا اتنا آسان نہیں جس طرح یہ لوگ چلارہے ہیں، پاکستان میں اس وقت عوام کو جو تکلیف ہو رہی ہے وہ ہمیں بھی ہے ۔ سینیٹر آصف کرمانی نے کہا کہ حکومت کا کام صبر سے سننا ہوتاہے ،کاش میرے پاس سلمانی ٹوپی ہوتی تومیں حکومتی ارکان کو پہنا کر کہتا کہ دیکھو مہنگائی سے آپ نے بیڑہ غرق کردیا ہے ، میں چیلنج کرتاہوں کہ شام کو کسی کھوکھے پر کمبل اوڑھ کر لوگوں کی باتیں سنیں کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہیں،

حکومت نے دعوے توبہت کئے پرعمل کچھ نہیں کیا ، ہم نے ڈالر کی قیمت بڑھنے نہیں دی، ڈالر 100روپے پر بھی رکھا گیا تھا، شہباز شریف کا کیا جرم ہے بتایاجائے، علیم خان اورعمران خان کے کیس پر کیا ایکشن لیا گیا ،کس حیثیت میں چیئرمین نیب وزیراعظم کوملتا ہے، وزیراعظم کون ہوتے ہیں جوکہتے ہیں کہ میں پچاس لوگوں کو پکڑلوں۔آصف کرمانی نے کہا کہ کیا شہباز شریف دہشتگرد ہے جواس کو بکتربند گاڑی میں لایا گیا، وزراء حملہ حکومتی حیثیت سے کرتے ہیں اورچھپتے نیب کے پیچھے ہیں ۔ انیل مسرت کون ہے اس کی کیا خدمات ہیں

پاکستان کیلئے، زلفی بخاری کی کیا خدمات ہیں جو ان کو عہدے دیے جارہے ہیں ، حکومت نے پچاس دنوں میں مہنگائی کے ریکارڈ بنا دیے ہیں ، اگر یہ حکومت چھ مہینے چل گئی تواس ملک میں کوئی غریب اور سفید پوش آدمی نہیں بچے گا ۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت نے مدینے کی ریاست کا نعرہ لگایا، یہ خوبصورت نعرہ ہے ، مدینے کی ریاست میں مفت انصاف تھا ، وہ مقروض نہیں تھی ، حکومت نے 35نکاتی 100روزہ پلان دیا تھا ۔ مشتاق احمد نے کہا کہ آئی ایم ایف قرض نہیں مرض دے رہا ہے ، یہ دھوکہ ہے کہ آئی ایم ایف ہمیں پاؤں پرکھڑا کرے گا، ان لوگوں نے آئی جی پنجاب کو گھر بھیج دیا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم پولیس کو سیاسی اثرو رسوخ سے پاک کریں گے، نیب کا ادارہ دجال کی طرح ایک آنکھ رکھتا ہے ، یہ باقی لوگوں پرکیوں ہاتھ نہیں ڈالتا۔انہوں نے کہا کہ مدارس کو نہ چھیڑا جائے، 35لاکھ طلباء پاکستان کا اثاثہ ہیں ۔سینیٹرطاہر بزنجو نے کہا کہ یہاں فکر انگیز گفتگو ہونی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے کل ملک میں جلسے اورجلوس نکالے ، ان کا کہنا ہے کہ ہماری جان اورنوکری کو خطرہ ہے ، صحافیوں کے جائز مطالبات کومنظور کیا جائے، میڈیا ریاست کے بنیادی ستونوں میں شامل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…