منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف سوچتی رہ گئی اور پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے ایسے شاندار منصوبے کا اعلان کر دیا کہ سب حیران رہ گئے ، بڑی خبر آگئی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے مفت سرکاری ایمبولینس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس ضمن میں سندھ حکومت کے ذرائع نے بتایاکہ کراچی میں آبادی کے لحاظ سے 200 ایمبولینس سروس کی فوری ضرورت ہے، اس وقت کراچی میں سرکاری ایمبولینس نہ ہونے کی وجہ سے غریب مریضوں بالخصوص امراض نسواں میں خواتین کو عالمی معیارکی ایمبولینس سروس نہ ملنے

کی وجہ سے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کراچی میں تاحال سرکاری ایمبولینس کی کوئی سہولت میسر نہیں جس کی وجہ سے مریض ایدھی، چھیپا یا امن فائونڈیشن میں اپنی مدد آپ کے تحت ایمبولینس استعمال کررہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر ایک لاکھ افراد پر ایک ایمبولینس ہونا لازمی ہوتی ہے مگرکراچی میں صورتحال اس کے برعکس ہے 3لاکھ افراد پر ایک نجی ایمبولینس کی سہولت میسر ہے، نجی ایمبولینس سروس پر مریضوں کے شدید دبائو کے پیش نظر حکومت سندھ نے امن فائونڈیشن سے رابطہ کرلیا اورکراچی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت امن فائونڈیشن کی 200 ایمبولینس سروس کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے، کراچی میں آبادی کے لحاظ سے کم ازکم 200 جدید ایمبولینس کی اشد ضرورت ہے جبکہ کراچی میں امن فائونڈیشن کی 60 ایمبولینس آپریشنل ہیں جو آبادی لے لحاظ سے بہت کم ہیں۔اس حوالے سے امن فائونڈیشن کے سربراہ برائے اسٹریجک آپریشن خاقان سکندر نے بتایا کہ حکومت سندھ نے مریضوں کوایمبولینس کی سروس فراہم کرنے کیلیے امن فائونڈیشن سے رابطہ کیااور 200ایمبولینس سروس چلانے کیلیے بات کی ہے۔انھوں نے بتایا کہ کراچی میں ایمبولینس سروس فراہم کرنے کیلیے ہمیں مزید140ایمبولینس کی ضرورت ہے جو ہم حاصل کررہے ہیں۔خاقان سکندرنے بتایاکہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہر 2منٹ کے اندر ایمرجنسی ہوتی رہتی ہے جس کے لیے متاثرہ مریض کو گھر سے یا اسپتال سے اسپتال منتقل کیاجاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ کراچی کے عوام کیلیے پہلی بار امن فائونڈیشن کے تحت ایمنولینس سروس کرنے کے اقدامات کیے جارہے ہیں، امید ہے رواں ماہ کے دوران حکومت سندھ اور امن فائونڈیشن کے درمیان معاہدہ طے پا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…