جمعہ‬‮ ، 15 مئی‬‮‬‮ 2026 

بزرگ پولیش سیاستدان نے ملکی صدرکو غدار اوربے وقوف قراردیدیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

وارسا(انٹرنیشنل ڈیسک)مشرقی یورپ میں کمیونزم کے زوال میں کلیدی کردار ادا کرنے والے پولینڈ کے سابق ٹریڈ یونین لیڈر اور بعد میں ملکی صدر بننے والے سیاستدان لیخ ولینسا نے کہاہے کہ موجودہ پولستانی رہنما یا تو غدار ہیں یا پھر مکمل طور پر بے وقوف۔غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت میں لیخ ولینسا نے اپنے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر کہاکہ انہوں نے ابھی تک عملی سیاست

کو خیرباد کہنے کے بارے میں نہیں سوچا اور جس راستے پر پولینڈ کے موجودہ رہنما اس یورپی ملک کو لے کر جا رہے ہیں، وہ ایک خطرناک راستہ ہے۔اس انٹرویو میں اپنی نجی اور سیاسی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لیخ ولینسا نے بتایا کہ وہ اپنے زندگی کے وہ تمام اہداف حاصل کر چکے ہیں، جن کے خواب انہوں نے دیکھے تھے۔ انہوں نے کہاکہ میری زندگی کے دو بڑے مقاصد تھے۔ پولینڈ کے لیے آزادی کو پھر سے یقینی بنانا اور جمہوریت۔ ہمارا ملک یہ دونوں مقاصد حاصل کر چکا ہے۔لیخ ولینسا نے تاہم اس بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ آج کے پولینڈ میں جمہوریت کی حالت یہ ہے کہ پولستانی عوام کو وارسا میں موجودہ حکمران جماعت کے سربراہ لیخ کاچنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں سے جذباتی تحریک ملتی ہے۔سابق پولستانی صدر ولینسا نے کہاکہ یہ حکمران نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ مجھے بھی اس لیے ایجنٹ قرار دیتے ہیں کہ یہ الزام انہیں الیکشن جیتنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ وہ اپنی سیاست سے پولینڈ کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ لوگ پولینڈ کے دشمن ہیں، غدار ہیں یا قطعی طور پر بے وقوف لوگ؟ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ یا تو غدار ہیں یا پھر قطعی طور پر بے وقوف افراد۔اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہ موجودہ حالات میں جرمنی کو کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، لیخ ولینسا نے کہاکہ جرمنوں نے، جنہوں نے نازی دور میں پولینڈ پر قبضہ کر لیا تھا، آج کے دور میں وہی کرنا چاہیے، جو وہ کر رہے ہیں اور جو کچھ انہوں نے مشرقی یورپ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد سے اب تک کیا ہے۔ جرمنی پولینڈ کی مدد کر سکتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دور کی تلخیاں بھلاتے ہوئے جرمنی اور پولینڈ کے مابین مکمل مفاہمت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مصالحتی عمل کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…