جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بزرگ پولیش سیاستدان نے ملکی صدرکو غدار اوربے وقوف قراردیدیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2018 |

وارسا(انٹرنیشنل ڈیسک)مشرقی یورپ میں کمیونزم کے زوال میں کلیدی کردار ادا کرنے والے پولینڈ کے سابق ٹریڈ یونین لیڈر اور بعد میں ملکی صدر بننے والے سیاستدان لیخ ولینسا نے کہاہے کہ موجودہ پولستانی رہنما یا تو غدار ہیں یا پھر مکمل طور پر بے وقوف۔غیرملکی خبررساں ادارے سے بات چیت میں لیخ ولینسا نے اپنے 75 ویں سالگرہ کے موقع پر کہاکہ انہوں نے ابھی تک عملی سیاست

کو خیرباد کہنے کے بارے میں نہیں سوچا اور جس راستے پر پولینڈ کے موجودہ رہنما اس یورپی ملک کو لے کر جا رہے ہیں، وہ ایک خطرناک راستہ ہے۔اس انٹرویو میں اپنی نجی اور سیاسی زندگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لیخ ولینسا نے بتایا کہ وہ اپنے زندگی کے وہ تمام اہداف حاصل کر چکے ہیں، جن کے خواب انہوں نے دیکھے تھے۔ انہوں نے کہاکہ میری زندگی کے دو بڑے مقاصد تھے۔ پولینڈ کے لیے آزادی کو پھر سے یقینی بنانا اور جمہوریت۔ ہمارا ملک یہ دونوں مقاصد حاصل کر چکا ہے۔لیخ ولینسا نے تاہم اس بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ آج کے پولینڈ میں جمہوریت کی حالت یہ ہے کہ پولستانی عوام کو وارسا میں موجودہ حکمران جماعت کے سربراہ لیخ کاچنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنماؤں سے جذباتی تحریک ملتی ہے۔سابق پولستانی صدر ولینسا نے کہاکہ یہ حکمران نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ مجھے بھی اس لیے ایجنٹ قرار دیتے ہیں کہ یہ الزام انہیں الیکشن جیتنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ وہ اپنی سیاست سے پولینڈ کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ لوگ پولینڈ کے دشمن ہیں، غدار ہیں یا قطعی طور پر بے وقوف لوگ؟ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ یا تو غدار ہیں یا پھر قطعی طور پر بے وقوف افراد۔اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہ موجودہ حالات میں جرمنی کو کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہیے، لیخ ولینسا نے کہاکہ جرمنوں نے، جنہوں نے نازی دور میں پولینڈ پر قبضہ کر لیا تھا، آج کے دور میں وہی کرنا چاہیے، جو وہ کر رہے ہیں اور جو کچھ انہوں نے مشرقی یورپ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد سے اب تک کیا ہے۔ جرمنی پولینڈ کی مدد کر سکتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دور کی تلخیاں بھلاتے ہوئے جرمنی اور پولینڈ کے مابین مکمل مفاہمت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس مصالحتی عمل کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…